ایلو ویرا
ایلوویرا یعنی کنوار گندل کے مسلمہ فوائد۔ ایلوویرا موٹاپے کا علاج۔ ایلوویرا گٹھیا اور جوڑوں کے درد کا علاج۔ ایلوویرا جسم و جگر کے لیے بہترین ٹانک۔ خواتین کے امراض کا علاج ایلوویرا۔ جلد کو رکھے جوان اور بے داغ۔ بالوں کے لیے آب حیات۔ ایلوویرا کا حلوہ بڑا مزیدار۔ وزن کم کرنے کے لیے ایلوویرا اجوائن کا نسخہ۔ ایلو ویرا، لیمن گراس اور لیموں شہد کی کاک ٹیل۔ ایلوویرا کا جوس بنانے کا آسان طریقہ۔ ایلوویرا شیمپو اور لوشن میں استعمال کرنے کا طریقہ۔ ایلوویرا کا گودا کم از کم دوسال پرانے بڑے پودے کے پتوں سے حاصل کرنا چاہیے۔ ********************************
ایلوویرا یعنی کنوار گندل صدیوں سے جانا پہچانا پودا ہے جو اکثر گھرانوں کی کیاریوں یا گملوں کی زینت ہے۔ کئی نسلوں سے اس بوٹی کی افادیت مسلمہ ہے اور اکثر معالجین اس کا حلوہ یا اسے قیمے میں پکا کر ان مریضوں کو کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جو جوڑوں کے درد یا معدے کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے مہنگے علاج کی طرف جانے کے بجائے سستے اور قابل برداشت حفاظتی غذائی ہتھیار استعمال کیے جائیں جو دکھی انسانیت کو سکون بخش سکیں۔ پس ان تمام چیلنجز اور خطرات کے مقابلے کے لیے ایلوویرا ایک اہم دفاعی حصار کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
علامات و کلینیکل استعمال۔ ایلوویرا کے گودے کا شربت بنا کر غذا کے طور پر استعمال کیاجائے تو اس کے مسلسل استعمال سے سے جوڑوں کے درد اور نظام انہضام کے کئی عوارض بشمول موٹاپے سمیت، تقریبا 60 بیماریوں یا استحالی خلل کی درستگی عین ممکن ہے۔
ایلو ویرا جوس کے استعمالاتی فوائد : 1: ایلو ویرا نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے۔ معدے میں موجود غذاؤں کے زہلریلے اثرات کو ختم کرتا ہے، السر، تیزابیت اور معدہ میں موجود زخموں اور سوزش بشمول خوراک کی نالی سے بڑی آنت تک کے لیے انتہائی مفید ہے۔
جوڑوں کا درد: امریکی محققین اب ایلوویرا کو جوڑوں کی بیماری میں کلی علاج کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
تیزابیت، دائمی قبض، نظام ہضم کی دیگر پیچدگیاں بشمول موٹاپا: ایلوویرا ڈرنک کے جزوی استعمال سے روزانہ لی گئی غذا سے اول تیزابیت دور کرنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ مسلسل استعمال سے معدے اور آنتوں کے السر تک درست ہو جانے کی مصدقہ رپورٹیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ تیزابیت موٹاپے کی دیگر وجوہات میں سے ایک ہے۔ پس تیزابیت ختم ہوتے ہی موٹاپے میں حیرت انگیز کمی نوٹ کی گئی ہے۔ جس ایلوویرا ڈرنک کا ذکر ہو رہا ہے اس کو کم از کم ساڑھے تین سالہ بالغ ایلوویرا سے حاصل کیا گیا ہو اور پینے کے قابل بنانے کے لیے اس میں موجود زہریلے مادے مثلا فینولک کمپاونڈ کو نکال کر stablize کر دیا ہو۔ وگرنہ فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ رہے گا۔
2: ایلو ویرا جوس کے باقاعدہ استعمال سے خوراک میں موجود چکنائی کا اخراج ہو جاتا ہے جس سے کولیسٹرول جسم میں بڑھنے کا عمل کنٹرول میں آجاتا ہے۔ دل کے والوز میں جمع شدہ چربی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور خون میں وٹامن کے کی موجودگی متاثر کیے بغیر ایلو ویرا خون کو پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور خون میں لوتھڑے بننے سے روکتا ہے، جس سے انسانی جسم میں خون کی گردش بہتر ہو جاتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ خاص کر کے ان مریضوں اور افراد کے لیے ایک بےضرر اور مفید مددگار ہے، جو لوگ ورزش کر سکنے سے قاصر ہیں، جن میں وہ لوگ جو امراض قلب، ہڈیوں کے فریکچرز والے لوگ، حاملہ خواتین شامل ہیں۔
دوران زچگی بہت ساری خواتین کی اموات بلڈ پریشر بڑھنے سے ہو جاتی ہیں، اس ضمن میں خواتین کو حمل کے ابتدائی دو ماہ اور آخری دو ماہ میں مکمل خوراک اور اس کے درمیانی عرصہ میں آدھی خوراک لینی چاہیے ۔
ایلوویرا یعنی کنوار گندل صدیوں سے جانا پہچانا پودا ہے جو اکثر گھرانوں کی کیاریوں یا گملوں کی زینت ہے۔ کئی نسلوں سے اس بوٹی کی افادیت مسلمہ ہے اور اکثر معالجین اس کا حلوہ یا اسے قیمے میں پکا کر ان مریضوں کو کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جو جوڑوں کے درد یا معدے کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے مہنگے علاج کی طرف جانے کے بجائے سستے اور قابل برداشت حفاظتی غذائی ہتھیار استعمال کیے جائیں جو دکھی انسانیت کو سکون بخش سکیں۔ پس ان تمام چیلنجز اور خطرات کے مقابلے کے لیے ایلوویرا ایک اہم دفاعی حصار کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
علامات و کلینیکل استعمال۔ ایلوویرا کے گودے کا شربت بنا کر غذا کے طور پر استعمال کیاجائے تو اس کے مسلسل استعمال سے سے جوڑوں کے درد اور نظام انہضام کے کئی عوارض بشمول موٹاپے سمیت، تقریبا 60 بیماریوں یا استحالی خلل کی درستگی عین ممکن ہے۔
ایلو ویرا جوس کے استعمالاتی فوائد : 1: ایلو ویرا نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے۔ معدے میں موجود غذاؤں کے زہلریلے اثرات کو ختم کرتا ہے، السر، تیزابیت اور معدہ میں موجود زخموں اور سوزش بشمول خوراک کی نالی سے بڑی آنت تک کے لیے انتہائی مفید ہے۔
جوڑوں کا درد: امریکی محققین اب ایلوویرا کو جوڑوں کی بیماری میں کلی علاج کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
تیزابیت، دائمی قبض، نظام ہضم کی دیگر پیچدگیاں بشمول موٹاپا: ایلوویرا ڈرنک کے جزوی استعمال سے روزانہ لی گئی غذا سے اول تیزابیت دور کرنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ مسلسل استعمال سے معدے اور آنتوں کے السر تک درست ہو جانے کی مصدقہ رپورٹیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ تیزابیت موٹاپے کی دیگر وجوہات میں سے ایک ہے۔ پس تیزابیت ختم ہوتے ہی موٹاپے میں حیرت انگیز کمی نوٹ کی گئی ہے۔ جس ایلوویرا ڈرنک کا ذکر ہو رہا ہے اس کو کم از کم ساڑھے تین سالہ بالغ ایلوویرا سے حاصل کیا گیا ہو اور پینے کے قابل بنانے کے لیے اس میں موجود زہریلے مادے مثلا فینولک کمپاونڈ کو نکال کر stablize کر دیا ہو۔ وگرنہ فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ رہے گا۔
2: ایلو ویرا جوس کے باقاعدہ استعمال سے خوراک میں موجود چکنائی کا اخراج ہو جاتا ہے جس سے کولیسٹرول جسم میں بڑھنے کا عمل کنٹرول میں آجاتا ہے۔ دل کے والوز میں جمع شدہ چربی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور خون میں وٹامن کے کی موجودگی متاثر کیے بغیر ایلو ویرا خون کو پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور خون میں لوتھڑے بننے سے روکتا ہے، جس سے انسانی جسم میں خون کی گردش بہتر ہو جاتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ خاص کر کے ان مریضوں اور افراد کے لیے ایک بےضرر اور مفید مددگار ہے، جو لوگ ورزش کر سکنے سے قاصر ہیں، جن میں وہ لوگ جو امراض قلب، ہڈیوں کے فریکچرز والے لوگ، حاملہ خواتین شامل ہیں۔
دوران زچگی بہت ساری خواتین کی اموات بلڈ پریشر بڑھنے سے ہو جاتی ہیں، اس ضمن میں خواتین کو حمل کے ابتدائی دو ماہ اور آخری دو ماہ میں مکمل خوراک اور اس کے درمیانی عرصہ میں آدھی خوراک لینی چاہیے ۔



Comments
Post a Comment