صحت بنائیں

تندرُست رہنے کے لیے غذا:
قدرت نے ہمارا نظام انہظام ایسا بنایا ہے کہ وہ نرم سے نرم اور سخت سے سخت غذا کو ہضم کر لیتا ہے۔ معدے کے بناوٹ نیچے اوپر شکنوں اور چنٹوں والی اس لیے بنائی ہے کہ بوقت ضرورت پھیل کر زیادہ خوراک اپنے اندر سما سکے۔ جو غذا معدے کے سپرد کی جاتی ہے پیس کر اس کا جوہر خون کی شکل میں علحیدہ کر کے باقی فضلہ پچیس فٹ انتڑیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انتڑیاں اپنی ہاضم رطوبات ملا کر رہا سہا جوہر غذا سے نکال کر بدنی پرورش کے لیے محفوظ کر دیتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں، روٹی، آلو، شکر، مٹھائیاں اور چاول عمدہ غذا سمجھی جاتی ہے۔ طبّی نقطہ نگاہ سے گوشت اور حرارت پیدا کرنے والی حیاتین (وٹامنز) الف، ب اور ج سے بھرپور تازہ ہری سبزیاں جن سے گندم، جو، چنا اور رائی کی سبز کونپلیں دانوں سمیت، گاجر، مولی، شلغم، مونگرے، ٹماٹر اور چقندر نرم پتوں کے ساتھ کھانا صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے۔ حیاتین (د) تو سورج کی کرنوں میں ہمارے لیے قدرت نے مفت مہیا کر دی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کم سے کم ایک گھنٹہ روزآنہ سورج کی روشنی کا کاروبار کریں۔
ایک عام خیال یہ ہے کہ جان بنانے کے لیے گھی، مکھن، دودھ، بُھنے گوشت اور حلوے ضروری ہیں، لیکن ان کے لیے معدہ مضبوط اور تندرُست ہونا ضروری ہے۔ ہم بالائی اتارے دودھ، مکھن نکلی چھاچھ، سُرخ گندم کی روٹی، مچھلی، سرسوں اور پالک کا ساگ کو نباتاتی تیل مثلاً بنولہ، کھوپرا، تل اور سرسوں کے ساتھ پکوان بنا کر بھی اپنی صحت کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔ ایک تندرُست آدمی کے لیے موٹا ہونا ضروری نہیں ہے، چاق و چوبند، پھرتیلا اور ہنسی خوشی سے فرائض منصبی ادا کرنے والا آدمی دولتِ صحت سے مالا مال ہوتا ہے۔
بدنی چربی ایک محفوظ ایندھن ہے جو بوقت ضرورت شکر میں تبدیل ہو کر بدن کی غذا بننے کے کام آ جاتی ہے۔ دبلے پتلے آدمی کو غذا زیادہ استعمال کرنی چاہیے تاکہ بدنی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے علاوہ وزن بھی بڑھے، اگر بھوک کم لگے تو سبز دھنیا کے پتّوں کا سلاد بنا کر روغن بنولہ، کھوپرا، سرسوں، تِل اور خصوصاً روغن زیتون مِلا کر استعمال کرنے سے بدنی پرورش کے علاوہ بھوک بھی زیادہ لگتی ہے۔ ایک چھٹانک چربی بدن میں اس قدر گرمی اور غذائیت پیدا کرتی ہے جس قدر دو چھٹانک شکر، چار چھٹانک روٹی اور دس چھٹانک آلو کھان سے حاصل ہوتی ہے۔
کم خوراک کھانے والوں کو بالائی، مکھن، مغز بادام، مغز پستہ، ناریل اور مونگ پھلی اپنی حیثیت کے مطابق زیادہ استعمال کرنی چاہئیں۔ یہ غذائیں حرارت پیدا کرنے والے روغنی اجزا کے ساتھ حیاتین الف اور ب سے بھی بھرپور ہیں۔ اگر کافی غذا کھانے کے بعد بھی آپ دبلے پتلے ہی رہیں تو پھر کسی طبیب سے مشورہ کرنا مناسب ہو گا۔
بڑھنے پھولنے والے بچّوں کو وافر ہلکی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمر میں دودھ، چھاچھ، بالائی اترا دودھ، سیب، سنگترے، انار، مالٹے کا پانی، گاجر، شلغم، مولی، چقندر کے تازہ پتّے اور ان کا پانی پلانے سے بچّے جلد بڑھتے ہیں اور پیٹ بھی پھولنے نہیں پاتا۔ علاوہ ازیں چونے کی مطلوبہ مقدار بھی بدن کو مہیّا ہو جاتی ہے۔
اس کے بر عکس زیادہ مکھن، بالائی، حلوے اور مٹھائیاں استعمال کرنے سے بدنی تعمیر رُک جاتی ہے۔ پیٹ بڑھتا ہے اور معدہ و جگر خراب ہو کر بچّے کی چُستی و چالاکی میں فرق آ جاتا ہے۔ بچپن کی حد عبور کر کے جوانی میں قدم رکھنے والے لڑکوں کو تیز گرم مِرچ مصالوں، مچھلی، انڈہ اور گوشت کی بجائے تر اور ہری سبزیاں، خرفہ، کاہو، لوکی، توری، ٹینڈے، پالک، گاجر، شلغم، کھیرے، ککڑی، مولی، ٹماٹر، مونگ اور ماش کی دالیں استعمال کرنی چاہیے۔ یہ غذائیں بدنی مضبوطی کے لیے ان کے علاوہ جذبات کو بھی اعتدال سے نہیں بڑھنے دیتیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ چائے کی بجائے دہی کی لسّی کا زیادہ شوق کریں۔ موسمی پھل تو ہر عمر میں استعمال کرنے ضروری ہیں۔ نوجوان کو تو کیلا، سیب، انار، بیر، مالٹا، شہتوت، کِنو، آڑو، فالسہ، لوکاٹ اور لسوڑی کا پھل، مغز بادام خوب کھانے چاہئیں۔ بوڑھوں اور بلغمی مزاج والوں کے لیے کھجور، خرما، انگور، مغز پستہ، چلغوزہ، مونگ پھلی، انجیر اور خوبانی مفید پھل ہیں۔ اس عمر میں انڈا، مچھلی، گوشت، مرغ وغیرہ اور گرم مصالحے زیادہ موافق ہیں۔ محنت و مشقت کرنے والوں کے لیے دودھ، گھی، مکھن، بالائی، حلوے، پراٹھے، پوری، مٹھائیاں، دال ماش، دال چنا، شکر قندی، آلو، کچالو، زردہ پلاؤ، تازہ اور خشک پھل، امرود، کیلا وغیرہ سب کچھ کھانے کی اجازت ہے۔
ہمارے خطہ میں صدیوں سے پلاؤ اور قورمے کی دعوتوں میں اس کے ساتھ مولی کے ٹکڑے کھانے کا دستور جاری کیا ہوا ہے جس سے یہ روغنی دیر ہضم غذا جلد ہضم ہو جاتی ہے۔ اس طرح چاول کھانے والے علاقوں میں مچھلی، انڈا اچار اور تُرش دالیں ساتھ مِلا کر کھانے سے اس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔

Comments

Popular Posts