گوما بُوٹی:
گوما بُوٹی (سندھی میں گومی) برسات میں مکئ جوار کے کھیتوں میں خود ہی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پودا ایک بالِشت سے آدھ گز تک اونچا ہوتا ہے۔ اس پر اخروٹ کے برابر گولے سے لگتے ہیں، جن میں بہت سے سوراخ ہوتے ہیں اور ایک سوراخ سے ایک چھوٹا سا پُھول نِکلتا ہے۔ اس بُوٹی کے پتّے اور پُھول بدبودار ہوتے ہیں۔
فوائد و استعمال:
۱۔ گوما بُوٹی پُرانے بلغمی بخاروں کے لیے بڑی مفید ہے۔ اس کو پانی میں جوش دے کے چند روز پلانے سے بُخار دُور ہو جاتا ہے۔
۲۔ گوما بُوٹی پیٹ کے کیڑوں کو مارتی ہے۔ اس کو پانی میں جوش دے کر چند روز پلانے سے کیڑے مر کر نِکل جاتے ہیں، زخموں میں کیڑے پڑ جائیں تو وہ بھی اس بُوٹی کا رس ٹپکانے سے مر جاتے ہیں۔
۳۔ گوما بُوٹی ورموں کو گھلا دیتی ہے۔ اس فائدے کے لیے اس کے پتّوں کی بھجیہ بنا کر ہلکی گرم باندھتے ہیں۔
۴۔ گوما بوُٹی کے پتّوں کا رس آنکھ میں ٹپکانے سے آنکھوں کی زردی جو پیلیا میں ہوتی ہے، دُور ہو جاتی ہے۔

Comments

Popular Posts