کریلا کے حیرت انگیز فوائد
کریلا :-
ماہیت۔
یہ ایک مشہور ترکاری ہے۔جس کی بیل درمیان سے دھاگے کی طرح بہت لمبی ہوتی ہے۔اور پتے پھٹے ہوئے کھردرے ان پر کانٹے ہوتے ہیں پھول زرد رنگ کے جو نرم اورخوبصورت ہوتے ہیں ۔پھل یعنی کریلاایک انچ سے لے کرپانچھ چھ انچ تک لمبے دونوں سروں پر پتلے اور درمیان سے موٹے ہوتے ہیں ۔کریلے کے اوپر چھوٹے پھوڑوں کی طرح ابھار ہوتے ہیں ۔تخم کدو کی طرح اور کھردرے ہوتے ہیں لیکن دوسری قسم کے کریلے پتلے اور کافی لمبے ہوتے ہیں جو کھانے میں بھی لذیز ہوتے ہیں اس کی ایک قسم جنگلی ہے۔اس کے اوپر کریلے کی طرح ابھار تو ہوتے ہیں لیکن ان کی طرح بیج نہیں ہوتے ۔ان کا ذائقہ کریلے کی طرح ہوتا اور اس کو مرض زیابیطس میں مفیدخیال کیاجاتاہے اس کو پنجاب پاکستان میں چوہنگ کہتے ہیں ۔
مزاج۔
گرم خشک۔۔درجہ سوم۔
افعال ۔
مقوی معدہ ،ملین شکم منفث بلغم قاتل کرم شکم دافع موٹاپا،دافع ذیابیطس ۔
استعمال۔
کریلے کو عموماًبطور نانخورش استعمال کرتے ہیں اکثر گھر میں اسےچھیل کر نمک مل کر کچھ دیر کے لئے رکھ دیاجاتاہے۔اس سے تلخ پانی نکل جاتاہے۔اس کے بعد پیاز ،چنے کے دال تنہا یا گوشت کے ساتھ پکا کر کھاتے ہیں اس طرح تلخی تو کم ہوجاتی ہے۔لیکن اس کا اثر بھی زائل ہوجاتاہے۔بہتر یہ ہے کہ اس کا تلخ پانی نکالانہ جائے ۔بعض لوگ اس کے اندر کا بیج نکال کر اس میں قیمہ یا کوئی دوسری چیز بھر کر اس کو پکاتے ہیں جوکہ بھرے ہوئے کریلے کے نام سے مشہور ہے اور کریلے مجھے ہر طریق پکے ہوئے پسند ہیں ۔
جالی ہونے کی وجہ سے اس کارنگ آنکھوں کے امراض جالہ پھولا دھند میں استعمال کرنا مفیدہے۔دردوں میں اس کا لیپ آرام دیتاہے۔سرکہ کے ہمراہ کریلے کو پیس کر لگاناورم گلو کوتحلیل کرتاہے۔
دافع ذیابیطس ہونے کی وجہ اس کا دو تولہ پانی ہر روز نہارمنہ پینایا اس کوخشک کر کے اس کا سفوف بناکر دو ماشہ سے تین ماشہ تک استعمال کرنامفیدہے اگر اس کے ساتھ چھال فالسہ کاخیساندہ بھی استعمال کریں تو انتہائی مفیدہے اس کا تازہ رس یرقان اورخون کوصاف کرتاہے۔اس کے پانی کا رس قاتل کرم شکم ہے۔منفث بلغم ہونے کی وجہ سے دمہ کھانسی میں استعمال کرتے ہیں اس کے علاوہ وجع المفاصل نقرس استسقاء اور ورم طحال میں کھلانامفیدہے۔اس کا پانی دو دوتولہ صبح و شام اور روغن زیتون دو تولہ دودھ میں ملاکر سوتے وقت پلانابہت مفیدہے۔
نفع خاص۔
دافع امراض بلغمی۔
مضر۔
خشکی پیداکرتاہے۔
مصلح۔
مرچ سیاہ ،فلفل دراز روغن۔
مقدارخوراک۔
پتوں کا پانی ایک تولہ سے دوتولہ ۔
سفوف خشک کریلاایک سے تین گرام تک۔
ممسک گولی:-
برگ کریلا کا پانی نکال کر رات بھر شبنم میں رکھیں صبح اس کا چہارم حصہ خولنجاں جو بوسیدہ نہ ہو ملا کر کھرل کریں اور چار ماشہ کی گولی بنائیں قبل از وقت دو گولی ہمراہ دودھ لیں.
شوگر کے لیے:
کریلا کے بیج 1000گرام
جامن کے بیج 1000گرام
گڑمار پتے 1000گرام
آم کی اندرکے کھٹلی کا مغر 1000گرام
ہڑڑ 500 گرام
صبح سویرے ناشتہ سے پہلے چھوٹا چمچ کھانا ہے
یہ نسخہ جس کا شوگر پلس ہو اس کا بھی بغیر پرہیز کے شوگر نارمل پر لے آتا ہئے ۔ یہ میرا ترتیب شدہ نسخہ کم از کم تیس لوگ خوش و خرم استعمال کر رہے ہیں جن میں پانچ انسولین والے اور دو پیدائشی ذیابطیس والے ہیں ۔
اپ کے علم میں اضافے کے لئے عرض ہے کہ انسولین انجکشن گڑمار بوٹی ہی کا اسٹریکٹ ہیے یا اسمیں انسولین بہت ذیادہ ہے کیونکہ انسولین انجکشن کا smell اور گڑمار بوٹی کا سمل ایک طرح ہے
یہ نسخہ موٹاپے والوں کے لئے اکسیر ہے بیشک شوگر نہ ہی ہو ۔
ایک مہینہ استعمال کے بعد اگر دو دن نہ بھی کھاوں تو شوگر ١۵٠۔١٧٠ ہی ہوگا۔
بادام ۵٠ گرام ۔ کاجو ۵٠ گرام
پستہ ۵٠ گرام ۔ مغز آخروٹ ۵٠ گرام
کلونجی ۵٠ گرام ۔ اندرجو تلخ ٢۵ گرام
سونڈھ ۵٠ گرام ۔ خشک کریلا ۵٠ گرام
مصبر ٢۵ گرام ۔ سناٴ مکی ٢۵ گرام
تخم نیم ۵٠ گرام ۔ میتھی دانہ ۵٠ گرام
گوند کیکر ۵٠ گرام ۔ گڑمار بوٹی ١٠٠٠ گرام.
.
نوٹ : بغیر پرہیز کا مطلب کہ نارمل ڈیلی روٹین کا خوراک دال سبزیاں چاول اور ہر قسم کا فروٹ و ڈرائی فروٹ وغیرہ بمعہ ایک دو کپ چاۓ ، نہ کہ بیکری کے رس گلوں پر ہاتھ صاف کیا جاۓ
یاد رہے کہ شوگر کے مریض کا بہت ذیادہ پرہیز اس کے جسمانی نیوٹریشن کو متاثر کر دیتا ہے جسکی وجہ سے قوت مدافعت کمزور ہو کر اس کے مسلز ڈھیلے پڑھ جاتے ہیں ۔
ترکیب خوراک : ایک مہینہ صبح شام کھانے بعد ایک ایک چمچ ۔
ایک مہینے بعد اپنی ضرورت کیمطابق دن میں ایک بار یا وہی دو بار ،
ابتداٴ میں پہلا مہینہ ہر ہفتہ کھانا کھانے کے دو تین گھنٹے بعد لیبارٹری سے ٹیسٹ ضرور کرایئں ۔
گھر پر موجود الیکٹرانک ڈیوائس ہر وقت اپ کے شوگر کو ہائی شو کریگا جس سے اپ نفسیاتی مریض بن جائیں گیں
یہ نسخہ بادام وغیرہ سے معتدل ہے اور تقریباً ایک ہزار روپے میں بنتا ہے جو دو مہینوں کے لئے کافی ہے
اگر نسخہ آدھا بنانا ہو تو تب بھی گڑمار بوٹی کا دیگر
ماہیت۔
یہ ایک مشہور ترکاری ہے۔جس کی بیل درمیان سے دھاگے کی طرح بہت لمبی ہوتی ہے۔اور پتے پھٹے ہوئے کھردرے ان پر کانٹے ہوتے ہیں پھول زرد رنگ کے جو نرم اورخوبصورت ہوتے ہیں ۔پھل یعنی کریلاایک انچ سے لے کرپانچھ چھ انچ تک لمبے دونوں سروں پر پتلے اور درمیان سے موٹے ہوتے ہیں ۔کریلے کے اوپر چھوٹے پھوڑوں کی طرح ابھار ہوتے ہیں ۔تخم کدو کی طرح اور کھردرے ہوتے ہیں لیکن دوسری قسم کے کریلے پتلے اور کافی لمبے ہوتے ہیں جو کھانے میں بھی لذیز ہوتے ہیں اس کی ایک قسم جنگلی ہے۔اس کے اوپر کریلے کی طرح ابھار تو ہوتے ہیں لیکن ان کی طرح بیج نہیں ہوتے ۔ان کا ذائقہ کریلے کی طرح ہوتا اور اس کو مرض زیابیطس میں مفیدخیال کیاجاتاہے اس کو پنجاب پاکستان میں چوہنگ کہتے ہیں ۔
مزاج۔
گرم خشک۔۔درجہ سوم۔
افعال ۔
مقوی معدہ ،ملین شکم منفث بلغم قاتل کرم شکم دافع موٹاپا،دافع ذیابیطس ۔
استعمال۔
کریلے کو عموماًبطور نانخورش استعمال کرتے ہیں اکثر گھر میں اسےچھیل کر نمک مل کر کچھ دیر کے لئے رکھ دیاجاتاہے۔اس سے تلخ پانی نکل جاتاہے۔اس کے بعد پیاز ،چنے کے دال تنہا یا گوشت کے ساتھ پکا کر کھاتے ہیں اس طرح تلخی تو کم ہوجاتی ہے۔لیکن اس کا اثر بھی زائل ہوجاتاہے۔بہتر یہ ہے کہ اس کا تلخ پانی نکالانہ جائے ۔بعض لوگ اس کے اندر کا بیج نکال کر اس میں قیمہ یا کوئی دوسری چیز بھر کر اس کو پکاتے ہیں جوکہ بھرے ہوئے کریلے کے نام سے مشہور ہے اور کریلے مجھے ہر طریق پکے ہوئے پسند ہیں ۔
جالی ہونے کی وجہ سے اس کارنگ آنکھوں کے امراض جالہ پھولا دھند میں استعمال کرنا مفیدہے۔دردوں میں اس کا لیپ آرام دیتاہے۔سرکہ کے ہمراہ کریلے کو پیس کر لگاناورم گلو کوتحلیل کرتاہے۔
دافع ذیابیطس ہونے کی وجہ اس کا دو تولہ پانی ہر روز نہارمنہ پینایا اس کوخشک کر کے اس کا سفوف بناکر دو ماشہ سے تین ماشہ تک استعمال کرنامفیدہے اگر اس کے ساتھ چھال فالسہ کاخیساندہ بھی استعمال کریں تو انتہائی مفیدہے اس کا تازہ رس یرقان اورخون کوصاف کرتاہے۔اس کے پانی کا رس قاتل کرم شکم ہے۔منفث بلغم ہونے کی وجہ سے دمہ کھانسی میں استعمال کرتے ہیں اس کے علاوہ وجع المفاصل نقرس استسقاء اور ورم طحال میں کھلانامفیدہے۔اس کا پانی دو دوتولہ صبح و شام اور روغن زیتون دو تولہ دودھ میں ملاکر سوتے وقت پلانابہت مفیدہے۔
نفع خاص۔
دافع امراض بلغمی۔
مضر۔
خشکی پیداکرتاہے۔
مصلح۔
مرچ سیاہ ،فلفل دراز روغن۔
مقدارخوراک۔
پتوں کا پانی ایک تولہ سے دوتولہ ۔
سفوف خشک کریلاایک سے تین گرام تک۔
ممسک گولی:-
برگ کریلا کا پانی نکال کر رات بھر شبنم میں رکھیں صبح اس کا چہارم حصہ خولنجاں جو بوسیدہ نہ ہو ملا کر کھرل کریں اور چار ماشہ کی گولی بنائیں قبل از وقت دو گولی ہمراہ دودھ لیں.
شوگر کے لیے:
کریلا کے بیج 1000گرام
جامن کے بیج 1000گرام
گڑمار پتے 1000گرام
آم کی اندرکے کھٹلی کا مغر 1000گرام
ہڑڑ 500 گرام
صبح سویرے ناشتہ سے پہلے چھوٹا چمچ کھانا ہے
یہ نسخہ جس کا شوگر پلس ہو اس کا بھی بغیر پرہیز کے شوگر نارمل پر لے آتا ہئے ۔ یہ میرا ترتیب شدہ نسخہ کم از کم تیس لوگ خوش و خرم استعمال کر رہے ہیں جن میں پانچ انسولین والے اور دو پیدائشی ذیابطیس والے ہیں ۔
اپ کے علم میں اضافے کے لئے عرض ہے کہ انسولین انجکشن گڑمار بوٹی ہی کا اسٹریکٹ ہیے یا اسمیں انسولین بہت ذیادہ ہے کیونکہ انسولین انجکشن کا smell اور گڑمار بوٹی کا سمل ایک طرح ہے
یہ نسخہ موٹاپے والوں کے لئے اکسیر ہے بیشک شوگر نہ ہی ہو ۔
ایک مہینہ استعمال کے بعد اگر دو دن نہ بھی کھاوں تو شوگر ١۵٠۔١٧٠ ہی ہوگا۔
بادام ۵٠ گرام ۔ کاجو ۵٠ گرام
پستہ ۵٠ گرام ۔ مغز آخروٹ ۵٠ گرام
کلونجی ۵٠ گرام ۔ اندرجو تلخ ٢۵ گرام
سونڈھ ۵٠ گرام ۔ خشک کریلا ۵٠ گرام
مصبر ٢۵ گرام ۔ سناٴ مکی ٢۵ گرام
تخم نیم ۵٠ گرام ۔ میتھی دانہ ۵٠ گرام
گوند کیکر ۵٠ گرام ۔ گڑمار بوٹی ١٠٠٠ گرام.
.
نوٹ : بغیر پرہیز کا مطلب کہ نارمل ڈیلی روٹین کا خوراک دال سبزیاں چاول اور ہر قسم کا فروٹ و ڈرائی فروٹ وغیرہ بمعہ ایک دو کپ چاۓ ، نہ کہ بیکری کے رس گلوں پر ہاتھ صاف کیا جاۓ
یاد رہے کہ شوگر کے مریض کا بہت ذیادہ پرہیز اس کے جسمانی نیوٹریشن کو متاثر کر دیتا ہے جسکی وجہ سے قوت مدافعت کمزور ہو کر اس کے مسلز ڈھیلے پڑھ جاتے ہیں ۔
ترکیب خوراک : ایک مہینہ صبح شام کھانے بعد ایک ایک چمچ ۔
ایک مہینے بعد اپنی ضرورت کیمطابق دن میں ایک بار یا وہی دو بار ،
ابتداٴ میں پہلا مہینہ ہر ہفتہ کھانا کھانے کے دو تین گھنٹے بعد لیبارٹری سے ٹیسٹ ضرور کرایئں ۔
گھر پر موجود الیکٹرانک ڈیوائس ہر وقت اپ کے شوگر کو ہائی شو کریگا جس سے اپ نفسیاتی مریض بن جائیں گیں
یہ نسخہ بادام وغیرہ سے معتدل ہے اور تقریباً ایک ہزار روپے میں بنتا ہے جو دو مہینوں کے لئے کافی ہے
اگر نسخہ آدھا بنانا ہو تو تب بھی گڑمار بوٹی کا دیگر



Comments
Post a Comment