پسینہ کی زیادتی

پسینہ کی زیادتی:
یہ بات معمول میں دیکھی جاتی ہے کہ اکثر افراد کو پسینہ بہت زیادہ آتا ہے اس میں بھی خاص کر جب بھی ہم عام موسم میں بھی کوئی مشقت یا محنت کا کام کرتے ہیں تو پسینہ بہت تیزی سے خارج ہونے لگتا ہے، جبکہ گرمیوں میں پسینہ خارج ہونے کی زیادہ شدت دیکھی جاتی ہے۔
ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ پسینہ دراصل ہمارے جِسم سے خارج ہونے وہ ذرّات ہیں جن کو خارج کر کے ہم جِسم میں موجود جراثیم سے نجات پاتے ہیں۔ تحقیق کا ماننا ہے کہ جِسم سے پسینے کا خارج نہ ہونا بیماریوں کو بڑھاتا ہے۔ صحت مند انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پسینہ خارج کرے، لیکن پسینے کے خارج ہونے میں یہ شِدّت کتنا فائدہ مند ہے۔ ﷲ سُبحان تعالٰی ہمارے جِسم میں خاص قِسم کی نمکیات کو رکھا ہے جن کو وٹامن ڈی کہا جاتا ہے، یہ نمکیات جِسم میں موجود فسّاد ذرّات کو الگ کرتی ہے اور پھر پسینے کی صورت میں خارج کرتی ہے۔ ہمارے جِسم کو وٹامن ڈی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، وٹامن ڈی جہاں ہمارے جِسم کو مضبوط و توانا بناتا ہے وہیں پر وٹامن ڈی کی کمی ہم میں بدہضمی، ڈپریشن، موٹاپا، ذیابیطس اور کینسر جیسے جان لیوا مرض میں بھی مبتلا کرتی ہیں۔ وٹامن ڈی کی وافر مِقدار ہمیں جوڑوں، ہڈی، پٹھے اور باقی تمام جِسم کی اعضاء کو مضبوط رکھ کر جِسم کو صحت مند بناتی ہے۔ جب بھی ہمارے جِسم سے پسینہ بہت زیادہ خارج ہوتا ہے اسکی وجہ ہم میں موجود نمکیات یعنی وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے، وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے حسّاس ذرّات الگ نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے پسینہ زیادہ خارج ہونے لگتا ہے، وٹامن ڈی کی کمی کی صورت میں دوا کا بھی استعمال کرنا چاہیے۔
پسینہ زیادہ آنے کے فائدے اور نقصان:
جو خواتین و حضرات پسینہ زیادہ آنے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں، ہاتھ پاؤں اور بغلوں سے پسینہ اس طرح بہہ رہا ہوتا ہے جیسے پانی بہتا ہو، اکثر ہاضمہ خراب رہتا ہو اور بھوک کم لگتی ہو، قبض رہتی ہو، جسم پر کھجلی ہوتی ہو نیز سر کمر میں درد رہتا ہو، بعض اوقات چلنے پھرنے میں سانس پھول جاتا ہے۔
اسباب:
یہ مرض کمی خون، دل کے امراض کا ہونا، شدید بخار کی وجہ، پسینہ کی غدود کے فعل میں یا ان کا متورم ہو جانا، مسامات کا کشادہ ہو جانا، ضعفِ ہضم اور جِسمانی کمزوری اس کے اسباب ہیں۔
عِلاج:
صبح و شام: مصفین شربت دو چمچ چائے والے، مصفین گولیاں دو عدد پانی کے ساتھ ۔
 بعد از غذا: شربت اکسیرِجگر دو چمچ چائے والے، جوارشِ آملہ ایک چمچ چائے والا پانی کے ساتھ ۔
 سوتے وقت: حبِ کبد نوشادری تین عدد پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
نسخہ ایک ماہ تک استعمال کریں۔
 غذا: زود ہضم استعمال کریں، ساگودانہ، دلیہ، یخنی وغیرہ ہلکی غذائیں استعمال کریں۔
 پرہیز: ثقیل بادی، تُرش، چٹپٹی اور کھٹی دیر سے ہضم ہونے والی اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔

Comments

Popular Posts