املتاس کے پھولوں کا کمال
ملتاس کے پھول:
املتاس کے پھول بلڈ پریشر دُور کرنے کی خاص دوا ہیں۔
املتاس کا درخت دنیا کے ہر حصّے میں پایا جاتا ہے۔ سبزہ زاروں، ریگستانوں اور جنگلوں میں قدرتی طور پر پیدا ہو جاتا ہے اور باغوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے اسے لگایا جاتا ہے۔ چالیس فٹ اونچا درخت زرد خوشنما پھولوں سے لدّا ہوا ہر سال دو بار عجب بہار دیتا ہے۔ اس قیمتی درخت کو سال میں دو مرتبہ پیلے پھول لگتے ہیں جو دو ماہ میں اپنی بہار ختم کر کے جھڑ جاتے ہیں اور ایک ڈیڑھ فٹ لمبی پھلیاں جو شروع میں سبز اور پکنے پر سُرخی مائل ہو جاتی ہیں، لگ جاتی ہیں۔ پھلیوں کو توڑنے سے اندر تخم اور انچ پون انچ گول گول میٹھی ٹکیاں برآمد ہوتی ہیں، یونانی حکیموں کی تحقیق کے مطابق اس کے پتّے، پھول، چھلکا اور جڑ سب شفائی اثرات سے مالا مال ہیں۔ اس کا مزاج گرم تر اور بدن کے دُور سے دُور مقامات سے زہریلے فضلے خارج کرنا اس کا کام ہے، ہر قِسم کا زہر بدن سے باہر نِکالنے اور طبیعت پر کسی بُرے اثر اور بے چینی نہ پیدا کرنے کی وجہ سے پُرانے حکیم اسے مسہل مبارکہ کا نام دیتے ہیں۔ صدیوں سے یونانی حکیموں نے اس کی پھلی کے گودہ کو عام گھروں میں پیدا ہونے والی بیماریاں دُور کرنے کے لیے استعمال کرنے کا رواج دیا ہوا ہے۔ اس کے پھول سونگھنے سے نازک مزاجووں کی قبض دُور ہو جاتی ہے۔
1۔ پھول صاف کر کے دو چند کھانڈ مِلا کر مل کر مرتبان میں ڈال کر دو چار دن دھوپ میں رکھنے سے عمدہ گلقند تیار ہو جاتی ہے، جسے روزانہ 12 تا 50 گرام تک چند ہفتے استعمال کرنے سے خون کا دباؤ کم، شریانوں کی قدرتی لچک بحال اور بلڈ پریشر دُور ہو جاتا ہے۔
2۔ دائمی قبض کے مریض روزانہ 25 تا 50 گرام تک اس کے پھول گوشت میں پکا کر استعمال کریں تو قبض دُور ہونے کے عِلاوہ انتڑیوں کا فعل دُرست ہو جاتا ہے۔
3۔ گرمی کے موسم میں ہونے والے بخاروں میں اس کا گلقند 12 گرام تا 60 گرام تک شربتِ بنفشہ 35 گرام پانی میں مِلا کر پینے سے صحت ہو جاتی ہے۔
4۔ اس کے نرم پتّے، ہری مکو ہموزن کو پانی میں پیس کر جوڑوں کے درد اور سوجن پر لیپ کرنے سے چند روز میں صحت ہو جاتی ہے۔ سخت قِسم کے ورم بھی اس سے دب جاتے ہیں۔
5۔ دودھ پیتے بچّے پیٹ خراب ہونے سے رونے لگتے ہیں۔ بعض اوقات درد اور اُپھارے سے ایک منٹ زبان منہ میں نہیں ڈالتے اور والدین کی نیند حرام کر دیتے ہیں، ایسی صورت میں اس کا گودہ عرقِ بادیاں میں پیس کر بچے کی ناف کے ارد گرد لیپ کرنے سے فوری تسکین ہو جاتی ہے۔
املتاس کے پھول بلڈ پریشر دُور کرنے کی خاص دوا ہیں۔
املتاس کا درخت دنیا کے ہر حصّے میں پایا جاتا ہے۔ سبزہ زاروں، ریگستانوں اور جنگلوں میں قدرتی طور پر پیدا ہو جاتا ہے اور باغوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے اسے لگایا جاتا ہے۔ چالیس فٹ اونچا درخت زرد خوشنما پھولوں سے لدّا ہوا ہر سال دو بار عجب بہار دیتا ہے۔ اس قیمتی درخت کو سال میں دو مرتبہ پیلے پھول لگتے ہیں جو دو ماہ میں اپنی بہار ختم کر کے جھڑ جاتے ہیں اور ایک ڈیڑھ فٹ لمبی پھلیاں جو شروع میں سبز اور پکنے پر سُرخی مائل ہو جاتی ہیں، لگ جاتی ہیں۔ پھلیوں کو توڑنے سے اندر تخم اور انچ پون انچ گول گول میٹھی ٹکیاں برآمد ہوتی ہیں، یونانی حکیموں کی تحقیق کے مطابق اس کے پتّے، پھول، چھلکا اور جڑ سب شفائی اثرات سے مالا مال ہیں۔ اس کا مزاج گرم تر اور بدن کے دُور سے دُور مقامات سے زہریلے فضلے خارج کرنا اس کا کام ہے، ہر قِسم کا زہر بدن سے باہر نِکالنے اور طبیعت پر کسی بُرے اثر اور بے چینی نہ پیدا کرنے کی وجہ سے پُرانے حکیم اسے مسہل مبارکہ کا نام دیتے ہیں۔ صدیوں سے یونانی حکیموں نے اس کی پھلی کے گودہ کو عام گھروں میں پیدا ہونے والی بیماریاں دُور کرنے کے لیے استعمال کرنے کا رواج دیا ہوا ہے۔ اس کے پھول سونگھنے سے نازک مزاجووں کی قبض دُور ہو جاتی ہے۔
1۔ پھول صاف کر کے دو چند کھانڈ مِلا کر مل کر مرتبان میں ڈال کر دو چار دن دھوپ میں رکھنے سے عمدہ گلقند تیار ہو جاتی ہے، جسے روزانہ 12 تا 50 گرام تک چند ہفتے استعمال کرنے سے خون کا دباؤ کم، شریانوں کی قدرتی لچک بحال اور بلڈ پریشر دُور ہو جاتا ہے۔
2۔ دائمی قبض کے مریض روزانہ 25 تا 50 گرام تک اس کے پھول گوشت میں پکا کر استعمال کریں تو قبض دُور ہونے کے عِلاوہ انتڑیوں کا فعل دُرست ہو جاتا ہے۔
3۔ گرمی کے موسم میں ہونے والے بخاروں میں اس کا گلقند 12 گرام تا 60 گرام تک شربتِ بنفشہ 35 گرام پانی میں مِلا کر پینے سے صحت ہو جاتی ہے۔
4۔ اس کے نرم پتّے، ہری مکو ہموزن کو پانی میں پیس کر جوڑوں کے درد اور سوجن پر لیپ کرنے سے چند روز میں صحت ہو جاتی ہے۔ سخت قِسم کے ورم بھی اس سے دب جاتے ہیں۔
5۔ دودھ پیتے بچّے پیٹ خراب ہونے سے رونے لگتے ہیں۔ بعض اوقات درد اور اُپھارے سے ایک منٹ زبان منہ میں نہیں ڈالتے اور والدین کی نیند حرام کر دیتے ہیں، ایسی صورت میں اس کا گودہ عرقِ بادیاں میں پیس کر بچے کی ناف کے ارد گرد لیپ کرنے سے فوری تسکین ہو جاتی ہے۔



Comments
Post a Comment