یونانی اطباء نے طبی عمر کتنی مقرر کی ہے؟

مناسب خوراک:
یونانی اَطبا نے طبعی عمر ایک سو پچاس سال مقرر کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق پچیس برس کی عمر میں انسانی ڈھانچہ اپنے کل پرزوں کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے، مکمل ہونے سے پانچ گنی مدّت میں فنا ہونا قدرتی موت ہے۔ قدیم اَطبا درازی عمر کے لیے صدیوں سے تجربات کر کے آبِ حیات کی تلاش میں ملک ملک کی جڑی بوٹیوں کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں، سائنسدان اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ انسانی عمر ڈیڑھ سو برس تک پہچ جائے۔ سالہا سال کے تجربات نے ہمارے سامنے ایسے مشاہدات رکھے ہیں جن سے ہم یہ ماننے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ انسان اتنی عمر تک پہنچ کے ہی دم لے گا۔ حکیموں نے تو جوارشِ جالینوس اور کشتہ سونا ایک لمبی مدّت استعمال کرا کے جوانی کو دیر تک قائم رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور ویدوں نے ہلیلہ سیاہ ترپھلے کے دوامی استعمال کو درازیِ عمر کا عِلاج بتلایا، سائنسدان انسانی خلیوں اور اعضا کو غیر معینہ مدّت تک صحت بخش محلولوں میں زندہ رکھنے میں کامیابی حاصل کر کے ثابت کر رہے ہیں کہ سارا جِسم ایک ہی دفعہ یکساں طور ناکارہ اور بیکار نہیں ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ساٹھ سالہ بوڑھا اپنے اندر چالیس سالہ جوان دل رکھتا ہے، اس کے گردے پچاس سالہ اور جگر اسّی سالہ کار کردگی کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ مخالف حالات کے باوجود کش مکش حیات میں کامیابی حاصل کر رہا ہے، غم فکر، تھکن و ناگہانی حادثات کا مقابلہ کر کے آگے سے آگے قدم بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ سائنسدان اس نظریے کو دُرست تسلیم کر رہے ہیں کہ زندگی کسی مخصوص قید و بند سے آزاد ہے، اس لیے بڑھاپے کی رفتا سُست کر کے درازی عمر ممکن ہے۔
کیلیفورنیا یونورسٹی میں زندگی بخش انجیکشنوں کے ذریعے لیبارٹری کے جانوروں کی عمر میں اضافہ ہوتے دیکھا گیا، سورج کی شعاعوں کو عُریاں جِسم پر دیر تک اثر انداز کرا کے عمر میں اضافہ ہوا۔ وہاں زیرِعمل کتّوں پر شمسی شعاعوں کے اثر سے خُون کے سفید خلیوں میں اضافہ ہو کر جراثیمی بیماریوں پر قابو پانے کی طاقت حاصل ہو گئ۔
ماہرِ حیوانات نے تِتلیوں کے دماغ میں جوانی پیدا کرنے والے ہارمون دریافت کیے۔ بالغ ہونے پر تتلی کے دماغ سے دو ننھی ننھی غدودیں ایک خاص سی شبابی رطوبت خارج کرنے لگتی ہیں۔ اسی طرح انسانوں اور دودھ دینے والے حیوانات میں بھی جوانی کے وقت شبابی ہارمون خارج ہوتے ہیں، جس سے اِطبا کے سوا سو سال عمر کے نظریے کو عملی طور پر تقّویت مِلتی ہے۔
سائنسدان تاریخی دور سے پہلے انسانی عمر اٹھارہ سال اور غاروں میں رہنے والوں کی چالیس مقرر کرتے ہیں۔ زمانہ وسطی کے انگلستان میں پینتیس سال اور جنگِ آزادی سے پہلے تینتالیس اور انیسویں صدی کے آخر میں پچاس سال اوسط عمر تھی۔ آج کل ساٹھ پینسٹھ سال کے اور تاشقند اور بخارا میں اس وقت بھی ہزاروں باشندے سو ڈیڑھ سو سال کے موجود ہیں۔
سائنسدان اب اس قدیم نظریہ کی تصدیق کر رہے ہیں کہ جس قدر زیادہ بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی آدمی میں ہوگی، اسی قدر زیادہ لمبی عمر اسے حاصل ہوگی۔ تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ بدنی گوشت اور خُون کے لحمی سالمات میں گرہیں پڑ جانے سے ان کی آزادنہ حرکت ناقِص ہو کر بڑھاپا رونما ہوتا ہے۔ تجربہ سے ثابت درازیِ عمر کے جو راز ہیں مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ دن رات کے چوبیس گھنٹوں کو تین حصّوں میں تقسیم کر کے آٹھ گھنٹے سخت محنت مشقت، آٹھ گھنٹے ہلکی کارکردگی جس میں تفریح بھی شامِل ہے اور آٹھ گھنٹے نیند کے لیے وقف کر دیں۔
2۔ دماغ کو حتی الامکان ٹھنڈا اور پُرسکون رکھیں، غصّے پر زیادہ قابو کرنے کی کوشش کریں۔
3۔ بنی نوع انسان کی خدمت اور مدد کرنا اپنا معمول بنائیں۔
4۔ ہر وقت خوش رہنے کی کوشش کریں، زندگی کے کاموں میں دلچسپی لیں اور ہر کام میں اعتدال کو ملحوظ رکھیں۔
5۔ غم، فکر اور مایوسی کو دماغ سے دُور بھگانے کی کوشش کریں۔
6۔ اپنی حیثیت کے مطابق زیادہ موسمی پھل اور تازہ کچی سبزیوں کا استعمال اپنا دستور بنا لیں۔
7۔ منشیات کی عادت نہ ڈالیں، سگریٹ نوشی اور زیادتی چائے بھی نشہ میں داخل سمجھیں۔
8۔ دودھ، دہی اور لسّی موسم اور حالات کے مطابق ضرور استعمال کریں۔
9۔ درد روکنے والی دوائیں وغیرہ حکیم و ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بلکل استعمال نہ کریں۔
10۔ روزانہ کم سے کم ایک گھنٹہ کُھلی اور تازہ ہوا میں گزاریں اور سورج کے روشنی کو ایک نعمتِ خداوندی سمجھیں۔

Comments

Popular Posts