اونٹنی کے دودھ کے حیرت انگیز فوائد

اُونٹنی کا دودھ:
اونٹ جسے فارسی میں شُتر، انگریزی میں (Camel) بولتے ہیں، ایک نہایت کارآمد جانور ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے۔ رسولِ مقبول صلّی ﷲ علیہ وسلّم نے استسقاء (جلودھر، پیٹ میں پانی جمع ہو جانا) کے لیے اُونٹنی کا دودھ پینے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اس کا گوشت عمدہ غذائیت سے بھر پور، دودھ، پیشاب اور ثفل (لیڈنے) ہٹیلی امراض میں مفت کی شفا بخش دوائیں ہیں، یونانی حکیموں نے صدیوں سے اس کے اجزاء کو اپنے فارماکوپیا میں داخل کیا ہوا ہے۔ اس کے دودھ میں پانی پچاسّی حصّے، چکنائی دو حصّے، گوشت بنانے والے پانچ اور ریشہ دار ساخت تین فیصد، سوڈیم، کیلشیم اور نوشادر کے نمکیات شامِل ہیں۔ اس میں نوشادر اور وٹامِنز اے، بی، سی اور ای بھی سمو دیے گئے ہیں۔ نوشادر کی آمیزش کی وجہ سے اس کے دودھ کا ذائقہ نمکین ہوتا ہے۔ پُرانے حکیم کس قدر ریسرچ کے ماہر تھے کہ ان کی دوربین نگاہوں نے اس میں نوشادر اور دیگر پیٹ ہلکا کرنے والے نمکیات کی پڑتال کر کے اسے ورمِ جگر، ورمِ گردہ، استسقا، تلی، جگر اور معدہ کی سختی اور پیٹ کا پانی خارج کرنے کے لیے مریضوں پر استعمال کرنے کا رواج جاری کیا۔
جب جگر میں ورم ہو جائے، گرمی کم ہو جانے سے خون کا پانی جدا ہو کر پیٹ کے میدان میں جمع ہونا شروع ہو جائے اور پیٹ پانی کی مشک کی طرح تنا ہوا نظر آنے لگے، چلنا پھرن دشوار ہو جائے، گردے خون سے پانی کم کرنا کم کردیں اور وہ پانی پیڑو اور فوطوں میں جمع ہو کر پھولے ہوئے نظر آئیں۔ آنکھوں کے پیوٹے سُوجے ہوئے اور مریض لیٹنے کے لیے مجبور ہو جائے تو اُونٹنی کا دودھ ایک تا دو کپ لے کر اس میں شربت بزوری معتدل یا شربت دینار چار کھانے کے چمچ، شہد یا شکر سُرخ مِلا کر صبح کے وقت پیئں اور شام کے وقت نوشادر، بالچھڑ، شورہ قلمی، ریوند خطائی 500، 500 ملی گرام اور کشتہ فولاد 125 ملی گرام اسی دودھ کے ساتھ کھائیں۔ مریض کی حالت اور مرض کی کمی بیشی کا خیال رکھتے ہوئے تین تین دن بعد آدھا کپ دودھ بڑھاتے جائیں، اس حد تک کہ دودھ کی مِقدار لیٹر، سوا لیٹر تک پہنچ جائے تو خدا کے فضل سے یہ جان لیوا بیماریاں دُور ہو جاتی ہیں۔ مرض کم ہونے پر آہستہ آہستہ دودھ کم کرتے جائیں۔ ایسے مریض دن رات اُونٹنی کا دودھ استعمال کریں اور اس کے سوا ہر قِسم کی غذا بند کر دیں، پیاس کے وقت مکو اور کاسنی کا عرق پیئں۔ ایسے مریضوں کو ایک وقت صرف دودھ اور دوسرے وقت شوربا، یخنی یا ساگ پات کی غذا پر گزارہ کرنا چاہیے۔
موجودہ دور میں اکثر بھائی دودھ ہضم نہ ہونے کی شکایت کیا کرتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو صبح ناشتہ میں صرف ایک کپ تا تین کپ اُونٹنی کا دودھ پینا جاہیے۔ پیٹ ہلکا اور قبض دُور ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں چپّے چپّے میں اس کا دودھ مِلتا ہے اور آجکل تو اُونٹنیوں والے گلی محلوں میں تازہ دودھ سامنے دھو کر دیتے ہیں۔
جن مریضوں کو بھوک نہ لگے، پیٹ بوجھل اور کمر کی درد تنگ کرے اُنھیں صبح و شام جس وقت بھی مِل سکے اس کا دودھ ایک کپ سے آدھا لیٹر تک استعمال کر کے بعد غذا جوارش کمونی یا دوائے مشتہی ایک دو گرام چند دن استعمال کر کے صحت بنانی چاہیے۔
بعض بھائی سب کچھ کھاتے ہوئے بھی جِسمانی کمزوری کی شکایت کیا کرتے ہیں، ایسے بھائی رنگ زرد ہو تو کشتہ فولاد 250 ملی گرام، بال گِرتے ہوں تو کشتہ مرجان 250 ملی گرام اور اعصابی دردیں ہوں تو کوئی بھی مقوی دِماغ دوا اس دودھ کے ساتھ چند زور استعمال کر کے قدرتِ خداوندی کا مشاہدہ کریں۔

Comments

Popular Posts