ہرن کھری کے فوائد
ہرن کُھری بُوٹی:
ہرن کُھری بُوٹی معدہ اور خون کی تیزابیت دُور کرتی ہے۔
ہرن کُھری بُوٹی جسے عوام بکر بیل، لہلی، کڑاڑی، گلوہڑی اور بیلوا کے نام سے یاد کرتے ہیں، سونے سے بھی زیادہ قیمتی گھاس ہے، قُدرت نے اس شفا بخش بُوٹی کو خود رو پیدا کرنے میں بڑی فراخدلی سے کام لیا ہے اور گندم، کپاس اور کماد کے کھیت تو اس سے بھرے ہوتے ہیں۔ عام فصلوں کے عِلاوہ سبزہ زاروں، ریگستانوں اور کوٹھیوں کے باہر حفاظتی باڑوں میں لپٹی ہوئ کئی کئی فٹ تک لمبی ہو جاتی ہے۔ باغوں اور فصلوں میں چھوٹی اورجنگلوں میں بڑے پتّوں والی عام مِلتی ہے۔
اس کے پتّے ہرن کے کُھر کی مانند شروع میں چوڑے اور کنارے پر جا کر باریک تکونی شکل بناتے ہیں۔ پیالہ نما سفید گلابی اور آسمانی رنگ کے پُھول کِھلے ہوئے عجیب بہار دکھاتے ہیں۔ شاخ اور پتّے توڑنے سے دودھ نِکلتا ہے، اس بیل کا مزاج سرد تر ہے، بکریاں اسے بڑے شوق سے کھاتی ہیں، اس کے کھانے سے ان کے دودھ کی مِقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ معدہ کی خشکی، جلن اور تیزابیت دُور کرنے کے لیے یہ مفت مِلنے والی گھاس آبِ حیات سے کم نہیں۔
1۔ ہرن کُھری بُوٹی 6 گرام سے 60 گرام تک دو سے سات عدد تک مرچ سیاہ کپ ڈیڑھ کپ پانی میں رگڑ کر چھان کر کھانڈ یا نمک مِلا کر چند روز استعمال کرنے سے معدہ دُرست، قبض دُور اور تیزابیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
2۔ دماغی کمزوری، نیند کی کمی اور سر کے چکر دُور کرنے کے لیے صبح ہرن کُھری 12 تا 24 گرام، مغز بادام 5، 7 عدد اور چھوٹی الائچی دو تین عدد پانی میں رگڑ کر چھان کر میٹھا مِلا کر پینے اور اس کے ساتھ کشتہ صدف 125 تی 250 ملی گرام، خمیرہ گاؤزبان 12 گرام دونوں مِلا کر چند یوم استعمال کرنے سے خدا کے فضل سے دماغ تروتازہ، چکر موقوف اور نیند آنے لگ جاتی ہے۔
3۔ جب خُون میں تیزابیت بڑھ جائے اور بدن پر خارش، پھوڑے پُھنسیاں اور داغ دھبے پڑنے شروع ہو جائیں تو صبح یہ بُوٹی 12 تا 60 گرام، سیاہ مرچ دو سے سات عدد کے ساتھ چند روز رگڑ کر پلائیں اور اس کے ساتھ شام کو کشتہ قلعی 125 تا 250 ملی گرام دودھ کے ساتھ چند روز کھلا کر شانِ خداوندی کا نظارہ دیکھیں۔ تازہ بیل نہ مِلے تو خشک رکھی ہوئی چوتھائی سے آدھا وزن تک استعمال ہو سکتی ہے۔
4۔ جب انتڑیوں میں خارش ہو جائے اور بار بار دست آنے لگیں تو 3 سے 6 گرام ہرن کُھری 1 سے 2 گرام دھنیا کے بیج پانی میں رگڑ چھان کر میٹھا یا نمک مِلا کر ایک دو مرتبہ پلانے سے ہی دست بند اور پیٹ کی خرابی رفع ہو جاتی ہے۔
ہرن کُھری بُوٹی معدہ اور خون کی تیزابیت دُور کرتی ہے۔
ہرن کُھری بُوٹی جسے عوام بکر بیل، لہلی، کڑاڑی، گلوہڑی اور بیلوا کے نام سے یاد کرتے ہیں، سونے سے بھی زیادہ قیمتی گھاس ہے، قُدرت نے اس شفا بخش بُوٹی کو خود رو پیدا کرنے میں بڑی فراخدلی سے کام لیا ہے اور گندم، کپاس اور کماد کے کھیت تو اس سے بھرے ہوتے ہیں۔ عام فصلوں کے عِلاوہ سبزہ زاروں، ریگستانوں اور کوٹھیوں کے باہر حفاظتی باڑوں میں لپٹی ہوئ کئی کئی فٹ تک لمبی ہو جاتی ہے۔ باغوں اور فصلوں میں چھوٹی اورجنگلوں میں بڑے پتّوں والی عام مِلتی ہے۔
اس کے پتّے ہرن کے کُھر کی مانند شروع میں چوڑے اور کنارے پر جا کر باریک تکونی شکل بناتے ہیں۔ پیالہ نما سفید گلابی اور آسمانی رنگ کے پُھول کِھلے ہوئے عجیب بہار دکھاتے ہیں۔ شاخ اور پتّے توڑنے سے دودھ نِکلتا ہے، اس بیل کا مزاج سرد تر ہے، بکریاں اسے بڑے شوق سے کھاتی ہیں، اس کے کھانے سے ان کے دودھ کی مِقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ معدہ کی خشکی، جلن اور تیزابیت دُور کرنے کے لیے یہ مفت مِلنے والی گھاس آبِ حیات سے کم نہیں۔
1۔ ہرن کُھری بُوٹی 6 گرام سے 60 گرام تک دو سے سات عدد تک مرچ سیاہ کپ ڈیڑھ کپ پانی میں رگڑ کر چھان کر کھانڈ یا نمک مِلا کر چند روز استعمال کرنے سے معدہ دُرست، قبض دُور اور تیزابیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
2۔ دماغی کمزوری، نیند کی کمی اور سر کے چکر دُور کرنے کے لیے صبح ہرن کُھری 12 تا 24 گرام، مغز بادام 5، 7 عدد اور چھوٹی الائچی دو تین عدد پانی میں رگڑ کر چھان کر میٹھا مِلا کر پینے اور اس کے ساتھ کشتہ صدف 125 تی 250 ملی گرام، خمیرہ گاؤزبان 12 گرام دونوں مِلا کر چند یوم استعمال کرنے سے خدا کے فضل سے دماغ تروتازہ، چکر موقوف اور نیند آنے لگ جاتی ہے۔
3۔ جب خُون میں تیزابیت بڑھ جائے اور بدن پر خارش، پھوڑے پُھنسیاں اور داغ دھبے پڑنے شروع ہو جائیں تو صبح یہ بُوٹی 12 تا 60 گرام، سیاہ مرچ دو سے سات عدد کے ساتھ چند روز رگڑ کر پلائیں اور اس کے ساتھ شام کو کشتہ قلعی 125 تا 250 ملی گرام دودھ کے ساتھ چند روز کھلا کر شانِ خداوندی کا نظارہ دیکھیں۔ تازہ بیل نہ مِلے تو خشک رکھی ہوئی چوتھائی سے آدھا وزن تک استعمال ہو سکتی ہے۔
4۔ جب انتڑیوں میں خارش ہو جائے اور بار بار دست آنے لگیں تو 3 سے 6 گرام ہرن کُھری 1 سے 2 گرام دھنیا کے بیج پانی میں رگڑ چھان کر میٹھا یا نمک مِلا کر ایک دو مرتبہ پلانے سے ہی دست بند اور پیٹ کی خرابی رفع ہو جاتی ہے۔



Comments
Post a Comment