بچوں کے پیٹ میں سے کیڑے نکالنے کا علاج

بچّوں میں پیٹ کے کیڑے (کرم شکم):
بچّوں کے پیٹ میں ہضم کی خرابی، میٹھی چیزیں زیادہ کھانے اور خراب گلے سڑے پھلوں اور کچّی پکّی ترکاریوں کے کھانے سے کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ تین قسم کے ہوتے ہیں۔
1۔ چُرنے: ان کو چُنونے بھی کہتے ہیں، یہ سفید رنگ کے باریک سرکہ کے کیڑوں کے مانند ہوتے ہیں اور چھوٹی آنتوں کے آخری حصّہ میں پیدا ہوتے ہیں۔
2۔ کینچوے (گینڈوے): یہ کیڑے سُرخ رنگ کے چار پانچ انچ لمبے اُن کینچوں جیسے ہوتے ہیں جو برسات میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کیڑے چھوٹی آنتوں میں پیدا ہوتے ہیں، کبھی کبھی یہاں سے معدہ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے قے کی راہ نِکل جاتے ہیں۔
3۔ کدّو دانے: اس قسم کے کیڑے سفید رنگ کے گھیے کے بیجوں جیسے ہوتے ہیں، اس لیے ان کو کدّو دانے کہتے ہیں۔ بہت سے کیڑے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کئی گز لمبی زنجیر بنا لیتے ہیں اور اس سے الگ ہو کر پاخانہ میں نِکلا کرتے ہیں۔ یہ زیادہ چھوٹی آنتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
جب بچّہ کے پیٹ میں کسی ایک قسم کے کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں تو بچّہ کا پیٹ پُھولا رہتا ہے، وہ ناک کو نوچتا ہے، نیند میں دانت پیستا ہے، مُنھ سے رال بہتی ہے اور جب چُرنے پیدا ہو کر بچّہ کی پاخانہ کی جگہ میں کاٹتے ہیں تو تکلیف کی وجہ سے وہ زیادہ روتا اور چیختا ہے۔ اگر اس جگہ کو دیکھا جائے تو وہ کیڑوں کے کاٹنے کی وجہ سے لال نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کیڑے خواہ کسی قسم کے ہوں جب وہ پاخانہ میں نِکلتے ہیں تو اُن کے پیٹ میں ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
علاج (چُرنے):
1۔ بچّہ کی غذا اور اس کے ہضم کی دُرستی کریں۔ اگر بچّہ کے پیٹ میں چُرنے ہوں تو پہلے ارنڈی کا تیل چھ گرام پلائیں۔ اس کے بعد تارپین کا تیل تین گرام ہلکے گرم پانی ایک کپ میں مِلا کر بذریعہ پُچکاری پاخانہ کی جگہ میں داخل کریں، تمام کیڑے مر کر نِکل جائیں گے۔
2۔ آڑو یا ارنڈ کی کونپلوں کا پانی پاخانہ کی جگہ پہنچانے سے بھی یہ کیڑے مر جاتے ہیں۔
3۔ کافور 1 گرام، ویسلین 12 گرام میں مِلا کر پاخانہ کی جگہ جو خارش وغیرہ چُرنوں کے کاٹنے سے ہوا کرتی ہے دُور ہو جاتی ہے۔
4۔ گولیاں (چُرنوں کو نِکالنے کے لیے) اندرونی طور پر گولیاں دی جائیں، ان کے استعمال سے چُرنے کی پیدائش رُک جاتی ہے:
رسوت، چاکسو چھلا ہوا ہر ایک 2 گرام، کالی مرچیں آدھا گرام، نیم کے پتّے 5 عدد، سب کو باریک پیس کر دانہ مونگ کے برابر گولیاں بنائیں۔ چھوٹے بچّہ کو ایک گولی اور بڑے بچّہ کو دو گولی دودھ میں گھول کر صبح و شام دیں۔
کینچوے:
1۔ اگر پیٹ میں کینچوے ہوں تو اس صورت میں بھی ارنڈی کا تیل 6 گرام سے 12 گرام تک (عمر کے مطابق) پلائیں، اس کے بعد یہ گولیاں کھلائیں۔
گولیاں (کینچوں کو نِکالنے کے لیے): افسنتین رومی، کمیلہ، باؤبڑنگ، مغز پلاس پاپڑہ ہر ایک 3 گرام باریک پیس کر آڑو کے پتّوں کے پانی یا سادہ پانی میں گوندھ کر چنے کے برابر گولیاں بنائیں اور بچّہ کی عمر کے مطابق ایک دو گولی صبح و شام پانی یا دودھ میں گھول کر دیں۔ تین چار روز کھلانے کے بعد ارنڈی کا تیل 6 گرام سے 12 گرام تک پلائیں۔ اس کے بعد پھر یہ گولیاں تین چار دن تک کھلائیں۔ اسی طرح چند بار کرنے سے کینچوے مر کر نِکل جائیں گے۔
کدّو دانے:
1۔ اگر پیٹ میں کدّو دانے ہوں تو پہلے ارنڈی کا تیل پلا کر آنتوں کو صاف کریں۔ اس کے بعد کمیلہ 1 گرام دہی میں مِلا کر کھلائیں اور چار گھنٹے کے بعد یا اگلے روز ارنڈی کا تیل 12 گرام پلائیں، تمام کدّو دانے نِکل جائیں گے، لیکن احتیاطً ایک دو روز اور کھلائیں۔ بعض اوقات کمیلہ کے کھلانے سے دست آتے ہیں اور ساتھ ہی کدّو دانے خارج ہو جاتے ہیں، ارنڈی کا تیل پلانے کی ضروت نہیں رہتی۔
2۔ کھّٹے انار کی جڑ 6 گرام سے 12 گرام تک لے کر دو کپ پانی میں جوش دیں، جب آدھا کپ رہ جائے تو چھان کر پلائیں۔ اگر بچّہ چھوٹا ہے تو اس کی دو تین خوراک کر کے دن میں تین بار پلائیں۔ کدّو دانے نِکالنے کی یہ ایک اچھّی دوا ہے۔
3۔ مغز کھوپرا (مغز نارجیل)، مغز تخمِ پلاس پاپڑا ہر ایک 6 گرام کو باریک کر کے گُڑ 6 گرام میں مِلائیں اور 1 گرام سے 3 گرام تک بچّہ کی عمر کے مطابق کھلائیں، کدّو دانے نِکل جائیں گے۔

Comments

Popular Posts