انار کا چھلکا ایسے نہ پھینکیں

انار کا چھلکا:
انار کا چھلکا جسے ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں بڑے کام کی چیز ہے، یونانی حکیموں کی دوربین نِگاہوں نے اپنی ریسرچ میں اس کے اندر گیلگ ایسڈ کی وجہ سے پُرانے سے پُرانے زخموں کو بھرنے کے لیے مفت کی دوا سمجھتے ہوئے اپنے فارماکوپیا میں داخل کیا ہوا ہے۔ یہ ترش پھل مقوی معدہ ہے، آنتوں کے زخم اور ورم اس کے استعمال سے بفضلِ خدا دُرست ہو جاتے ہیں، اس کے استعمال سے کیچوے (بڑے بڑے کیڑے جسے عوام ملہپ) کہتے ہیں مر کر بدن سے خارج ہو جاتے ہیں۔
استعمال:
جب مُنہ آ جائے اور زبان و حلق زخموں سے بھر کر کھانا پینا مشکل ہو جائے تو 12 گرام نسپال (انار کا چھلکا) آدھا لیٹر پانی میں جوش دے کر اس سے دن میں دو تین دفعہ کُلیاں کرنے سے زبان اور تالو کی سوجن دُور اور مُنہ سے پانی بہنا بند ہو جاتا ہے۔
جب بواسیر کا خون جاری ہونے سے پاخانہ کی جگہ درد کرنے لگے یا مسّے پھول کر بیٹھنا اُٹھنا مشکل ہو جائے تو اس کاڑھے سے آبِ دست کرنا آناً فاناً تسکین کی صورت پیدا کر دیتا ہے۔
بچّوں میں عموماً اور بعض دفعہ بڑوں میں کانچ نِکلنے کی بیماری ہو جاتی ہے جس میں مقعد (پاخانے کی جگہ) باہر لٹک جاتی ہے اور چلنے پھرنے میں دِقت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اس کا چھلکا پیس کر دہی چار چند مِلا کر چند روز صبح و شام لگانے سے صحت ہو جاتی ہے۔
پُرانے رِسنے والے زخموں پر نسپال جلا کر آٹھ حصّے مکھن مِلا کر چند روز لگاتے رہنے سے فضلِ خدا ہو جاتا ہے۔
جب لمبے لمبے کیڑے پیٹ سے نِکلتے ہوں اور مریض دن بدن کمزور ہوتا جائے تو 25 تا 50 گرام کھٹے انار کا چھلکا اور خشک شہتوت 750 ملی لیٹر پانی میں تین چار جوش دے کر مل چھان کر اس کا پانی دو کپ شام کو پانچ بجے پلا دیں اور دو کپ صبح نماز سے فارغ ہونے پر پلائیں۔ اس کے دو گھنٹے بعد مریض کو 25 تا 75 ملی لیٹر روغن بید انجیر (مشہور کسٹرآئل) یا 60 گرام گلقند میں 250 ملی گرام سقمونیا پیس کر مِلا کر سونف کے عرق کے ساتھ کھلانے سے زندہ اور مردہ ملہپ (لمبے کیڑے) خارج ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کے بعد ایک ہفتہ تک روزانہ صبح و شام کشتہ فولاد، کشتہ ابرک 250، 250 ملی گرام صبح دودھ یا لسّی کے ساتھ کھلائیں، کھانے کے دونوں وقت جوارشِ جالینوس تین تا چھ گرام تک کھلائیں اور آٹھ دن بعد دوبارہ نسپال اور شہتوت کا جوشاندہ پلائیں، اس طرح دو تین دفعہ یہ عمل کرنے سے ہمیشہ کے لیے کیڑوں سے خلاصی ہو جاتی ہے۔

Comments

Popular Posts