پھل اور سبزیاں
پھل اور سبزیاں:
پھلوں اور سبزیوں کے استعمال سے بھوک نہ لگنے کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔
مطب میں آنے والے اکثر مریض یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ انہیں بھوک بہت کم لگتی ہے۔ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں ایک دو ٹوس، پانچ سات چائے کی پیالیاں اور دوپہر کے وقت ایک دو چپاتیاں نصیب ہوتی ہیں۔ بعض منچلے تو اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ وہ سارے دن میں پندرہ بیس دفعہ چائے پی کر ہی اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ بعض دفتری بھائی تو ایک کُرسی سے دوسری کُرسی پر گھومتے گھومتے کبھی ایک دو بسکٹ، کبھی پیسٹری، کبھی کریم رول اور کبھی ایک دو دانے مٹھائی کھا کر ہی ڈکار مارتے سارا دن گزار دیتے ہیں۔ جب انہیں صبح دہی مکھن کا ناشتہ تجویز کیا جائے تو ۸۰ فیصد حضرات یہ جواب دیتے ہیں کہ دہی مکھن کھا کر ہم پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے، نیند آنے لگتی ہے اور روز مرہ کے کاروبار میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ کچھ بھائی یہ بتاتے ہیں کہ دہی مکھن کھانے سے ہمیں چھینکیں آنے لگتی اور نزلہ زکام کا حملہ ہو جاتا ہے۔ جب دودھ پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو ساٹھ فیصد حضرات یہ شکوہ کرتے ہیں کہ دودھ سے ہمارا پیٹ پھول جاتا ہے، بیس پچیس فیصد افراد یہ کہتے ہیں کہ انہیں دودھ پیتے ہی دست لگ جاتے ہیں، کچھ یہ رونا روتے ہیں کہ ایک پیالی دودھ پینے سے سارا دن جلے بُھنے ڈکار آتے ہیں۔ ایسے افراد تو آج کل ایک دو فیصد بھی نظر نہیں آتے جن کا معمول صبح سیر آدھ سیر دہی دودھ کا ناشتہ اور دن میں دو دفعہ پیٹ بھر کا سالن روٹی کھانا ہو۔ ایسے نوجوانوں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی رہتی ہیں جو دن کے دو تین بجے کچے شلغم، گاجریں، کچا پیاز اور ہرے دھنیے کو چبا چبا کر دانتوں کو چمک دار، مسوڑھوں کو مضبوط، معدے کو تندرُست اور بدن کو ہلکا پُھلکا بنانے کے خواہش مند ہوں۔
جب پھلوں کو کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو عام طور پر معاشرہ یہی جواب دیتا ہے کہ حکیم صاحب روٹی اور چائے پینے کے لیے پیسے نہیں مِلتے مہنگے پھل کون خریدے۔ ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو ہر موسم میں قدرت نے ایسے پھل اور سبزیاں پیدا کرنے میں بڑی فراخدلی سے کام لیا ہے جو غریب سے غریب آدمی کا بھی پیٹ بھرنے کے لیے ضروری غذائی سامان مثلاً نشاستہ دار گوشت پیدا کرنے والے روغن اور مطلوبہ نمکیات کے عِلاوہ وٹامنز (حیاتین) کی معقول مِقدار سستے داموں ہر غریب آدمی کو مِل سکتی ہیں۔ طالبِ عِلم سکولوں کالجوں میں اور بابو لوگ دفتروں میں روزانہ چالیس پچاس روپے کے پھلوں کا جوس پی کر صحت بنانے کی خوشی میں پھولے نہیں سماتے، حالانکہ طبِی نقطہ نِگاہ سے پھلوں کا جوس پینے سے کچھ غذائیت کے عِلاوہ صرف گُردے اور مثانے کے رہریلے اجزاء صاف ہوتے ہیں، سنگترہ، مالٹا، موسمّی، کِنّو، سیب، امرود، ناشپاتی، آلوبُخارا، ٹماٹر، گاجر، شلغم، گوبھی، مولی، مونگرے اور پیاز اگر چھلکے سمیت بغیر چھیلے استعمال کیے جائیں تو جِسم میں مناسب غذائی اجزاء حاصل ہونے کے عِلاوہ ہاضمہ پر بوجھ کم اور قبض ہونے نہیں پاتی، شلغم، گاجر اور سیب کو چھیلنے سے ہم ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے اجزاء سے محروم ہو جاتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں قریباً ستائیس اٹھائیس فٹ لمبی غذائی نالی جس میں معدہ، انتڑیاں اور حلق شامِل ہے۔ غذا کو توڑنے پھوڑنے، اپنے ہارمونز (ہاضم رطوبتیں) مِلا کر نرم کرنے، خُون، روغنی اجزاء، شکریلے اجزاء، نمکیات، حیاتین جُدا جُدا کر کے دل، دماغ، اعصاب اور جگر گردوں کو مُناسب مِقدار مہیّا کرنے کے لیے عطا فرمائی ہے۔
معدہ اور ملحقہ آنتیں تو غذا کا جوہر اور فضلہ جدا کرنے کا کام کرتی رہتی ہیں۔ آخری دو آنتیں یعنی قولون اور مستقیم نامی بچے کھچے غذا کے ناکارہ
فضلات کو مناسب پانی مِلا کر آسانی کے ساتھ پاخانہ کی شکل میں خارج کرنے والا بناتی ہے۔ جب فضلات مناسب وقت پر پیشاب پاخانہ، پسینہ اور تھوک کی شکل میں بدن سے خارج ہوتے ہیں تو ہماری آخری آنت سُکڑتی اور دوسری آنت کو چُوستی، دوسری تیسری کو اسی طرح چھ انتڑیاں چُوستے چُوستے معدے کو چُوسنے لگتی ہیں۔ اطباّ اس حرکت کو امتصاص کا نام دیتے ہیں۔ یہ چُوسنے کا عمل ہمیں بھوک لگاتا ہے اور کھانے پر مجبور کرتا ہے۔ اب یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو گئی کہ عمدہ بھوک لگنے کے لیے قبض دُور ہونا نظامِ ہضم کا درست ہونا ضروری ہے۔ یہ تجربہ شدّہ بات ہے کہ موٹے ان چھنے آٹے کی روٹی، کچی اور پکّی موسمی سبزیاں اور جیب کے مطابق پھل، دودھ، دہی اور لسّی استعمال کرنے سے تندرُستی اور قابلِ رشک صحت حاصل ہو سکتی ہے۔
پھلوں اور سبزیوں کے استعمال سے بھوک نہ لگنے کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔
مطب میں آنے والے اکثر مریض یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ انہیں بھوک بہت کم لگتی ہے۔ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں ایک دو ٹوس، پانچ سات چائے کی پیالیاں اور دوپہر کے وقت ایک دو چپاتیاں نصیب ہوتی ہیں۔ بعض منچلے تو اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ وہ سارے دن میں پندرہ بیس دفعہ چائے پی کر ہی اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ بعض دفتری بھائی تو ایک کُرسی سے دوسری کُرسی پر گھومتے گھومتے کبھی ایک دو بسکٹ، کبھی پیسٹری، کبھی کریم رول اور کبھی ایک دو دانے مٹھائی کھا کر ہی ڈکار مارتے سارا دن گزار دیتے ہیں۔ جب انہیں صبح دہی مکھن کا ناشتہ تجویز کیا جائے تو ۸۰ فیصد حضرات یہ جواب دیتے ہیں کہ دہی مکھن کھا کر ہم پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے، نیند آنے لگتی ہے اور روز مرہ کے کاروبار میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ کچھ بھائی یہ بتاتے ہیں کہ دہی مکھن کھانے سے ہمیں چھینکیں آنے لگتی اور نزلہ زکام کا حملہ ہو جاتا ہے۔ جب دودھ پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو ساٹھ فیصد حضرات یہ شکوہ کرتے ہیں کہ دودھ سے ہمارا پیٹ پھول جاتا ہے، بیس پچیس فیصد افراد یہ کہتے ہیں کہ انہیں دودھ پیتے ہی دست لگ جاتے ہیں، کچھ یہ رونا روتے ہیں کہ ایک پیالی دودھ پینے سے سارا دن جلے بُھنے ڈکار آتے ہیں۔ ایسے افراد تو آج کل ایک دو فیصد بھی نظر نہیں آتے جن کا معمول صبح سیر آدھ سیر دہی دودھ کا ناشتہ اور دن میں دو دفعہ پیٹ بھر کا سالن روٹی کھانا ہو۔ ایسے نوجوانوں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی رہتی ہیں جو دن کے دو تین بجے کچے شلغم، گاجریں، کچا پیاز اور ہرے دھنیے کو چبا چبا کر دانتوں کو چمک دار، مسوڑھوں کو مضبوط، معدے کو تندرُست اور بدن کو ہلکا پُھلکا بنانے کے خواہش مند ہوں۔
جب پھلوں کو کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو عام طور پر معاشرہ یہی جواب دیتا ہے کہ حکیم صاحب روٹی اور چائے پینے کے لیے پیسے نہیں مِلتے مہنگے پھل کون خریدے۔ ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو ہر موسم میں قدرت نے ایسے پھل اور سبزیاں پیدا کرنے میں بڑی فراخدلی سے کام لیا ہے جو غریب سے غریب آدمی کا بھی پیٹ بھرنے کے لیے ضروری غذائی سامان مثلاً نشاستہ دار گوشت پیدا کرنے والے روغن اور مطلوبہ نمکیات کے عِلاوہ وٹامنز (حیاتین) کی معقول مِقدار سستے داموں ہر غریب آدمی کو مِل سکتی ہیں۔ طالبِ عِلم سکولوں کالجوں میں اور بابو لوگ دفتروں میں روزانہ چالیس پچاس روپے کے پھلوں کا جوس پی کر صحت بنانے کی خوشی میں پھولے نہیں سماتے، حالانکہ طبِی نقطہ نِگاہ سے پھلوں کا جوس پینے سے کچھ غذائیت کے عِلاوہ صرف گُردے اور مثانے کے رہریلے اجزاء صاف ہوتے ہیں، سنگترہ، مالٹا، موسمّی، کِنّو، سیب، امرود، ناشپاتی، آلوبُخارا، ٹماٹر، گاجر، شلغم، گوبھی، مولی، مونگرے اور پیاز اگر چھلکے سمیت بغیر چھیلے استعمال کیے جائیں تو جِسم میں مناسب غذائی اجزاء حاصل ہونے کے عِلاوہ ہاضمہ پر بوجھ کم اور قبض ہونے نہیں پاتی، شلغم، گاجر اور سیب کو چھیلنے سے ہم ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے اجزاء سے محروم ہو جاتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں قریباً ستائیس اٹھائیس فٹ لمبی غذائی نالی جس میں معدہ، انتڑیاں اور حلق شامِل ہے۔ غذا کو توڑنے پھوڑنے، اپنے ہارمونز (ہاضم رطوبتیں) مِلا کر نرم کرنے، خُون، روغنی اجزاء، شکریلے اجزاء، نمکیات، حیاتین جُدا جُدا کر کے دل، دماغ، اعصاب اور جگر گردوں کو مُناسب مِقدار مہیّا کرنے کے لیے عطا فرمائی ہے۔
معدہ اور ملحقہ آنتیں تو غذا کا جوہر اور فضلہ جدا کرنے کا کام کرتی رہتی ہیں۔ آخری دو آنتیں یعنی قولون اور مستقیم نامی بچے کھچے غذا کے ناکارہ
فضلات کو مناسب پانی مِلا کر آسانی کے ساتھ پاخانہ کی شکل میں خارج کرنے والا بناتی ہے۔ جب فضلات مناسب وقت پر پیشاب پاخانہ، پسینہ اور تھوک کی شکل میں بدن سے خارج ہوتے ہیں تو ہماری آخری آنت سُکڑتی اور دوسری آنت کو چُوستی، دوسری تیسری کو اسی طرح چھ انتڑیاں چُوستے چُوستے معدے کو چُوسنے لگتی ہیں۔ اطباّ اس حرکت کو امتصاص کا نام دیتے ہیں۔ یہ چُوسنے کا عمل ہمیں بھوک لگاتا ہے اور کھانے پر مجبور کرتا ہے۔ اب یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو گئی کہ عمدہ بھوک لگنے کے لیے قبض دُور ہونا نظامِ ہضم کا درست ہونا ضروری ہے۔ یہ تجربہ شدّہ بات ہے کہ موٹے ان چھنے آٹے کی روٹی، کچی اور پکّی موسمی سبزیاں اور جیب کے مطابق پھل، دودھ، دہی اور لسّی استعمال کرنے سے تندرُستی اور قابلِ رشک صحت حاصل ہو سکتی ہے۔



Comments
Post a Comment