ہماری غذائیں
غذائیں:
جو غذائیں ہماری تندرُستی کو قائم رکھتی، جِسم کی پرورش کرتی اور اس میں قوّتِ حرارت پیدا کرتی ہیں وہ عموماً ان چار اجزاء سے بنتی ہیں، موادِمُلحِمہ، موادِنشاستہ، موادِشحمیہ، نمکیات۔
ان چار اجزاء کے عِلاوہ چند دوسرے اہم اجزاء بھی پائے جاتے ہیں، جن کے بغیر غذا معیاری نہیں کہلائی جا سکتی۔
موادِ مُلحِمہ (Proteins):
موادِ مُلحِمہ (اجزاء لحمیہ) کو پروٹینز اور نائٹروجی نس بھی کہتے ہیں۔ غذا میں ان اجزاء کا ہونا نہایت ضروری ہے، اس لیے کہ یہی اجزاء ہمارے جِسم کی پرورش کرتے اور اس کو بڑھاتے ہیں۔ یہ بچپن اور شروع جوانی میں جو کہ جِسم کی بڑھوتری کا زمانہ ہے اسی قِسم کے غذائی اجزاء کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ عمر کے دوسرے حِصّوں میں جو لوگ جِسمانی و دماغی محنت زیادہ کرتے ہیں ان کو بھی موادِ لحمیہ کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔
یہ لحمی اجزاء حیوانی غذاؤں میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ نباتی غذاؤں میں بھی موجود ہوتے ہیں، البتّہ ان میں حیوانی غذاؤں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔
حیوانی غذائیں جن میں موادِ مُلحِمہ (پروٹینز) زیادہ مِقدار میں پائے جاتے ہیں، گوشت، انڈے، مچھلی، دودھ، دہی، پنیر وغیرہ ہیں اور جن نباتی غذاؤں میں یہ اجزاء پائے جاتے ہیں وہ گہیوں، چنا، مٹر، سیم، دال ماش اور مونگ، بادام، اخروٹ، کاجو وغیرہ ہیں۔
اس قِسم کی غذاؤں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان سے خالی نہیں ہے، چناچہ اگر کوئی شخص اس قِسم کی غذائیں ضرورت سے زیادہ کھاتا پیتا ہے تو اس کے جِسم میں ضرورت سے زیادہ خون پیدا ہونے لگتا ہے، اس کا مزاج میانے سے ہٹ جاتا ہے اور اس کو مختلف قِسم کی خون کی بیماریاں ستانے لگتی ہیں۔
جو غذائیں ہماری تندرُستی کو قائم رکھتی، جِسم کی پرورش کرتی اور اس میں قوّتِ حرارت پیدا کرتی ہیں وہ عموماً ان چار اجزاء سے بنتی ہیں، موادِمُلحِمہ، موادِنشاستہ، موادِشحمیہ، نمکیات۔
ان چار اجزاء کے عِلاوہ چند دوسرے اہم اجزاء بھی پائے جاتے ہیں، جن کے بغیر غذا معیاری نہیں کہلائی جا سکتی۔
موادِ مُلحِمہ (Proteins):
موادِ مُلحِمہ (اجزاء لحمیہ) کو پروٹینز اور نائٹروجی نس بھی کہتے ہیں۔ غذا میں ان اجزاء کا ہونا نہایت ضروری ہے، اس لیے کہ یہی اجزاء ہمارے جِسم کی پرورش کرتے اور اس کو بڑھاتے ہیں۔ یہ بچپن اور شروع جوانی میں جو کہ جِسم کی بڑھوتری کا زمانہ ہے اسی قِسم کے غذائی اجزاء کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ عمر کے دوسرے حِصّوں میں جو لوگ جِسمانی و دماغی محنت زیادہ کرتے ہیں ان کو بھی موادِ لحمیہ کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔
یہ لحمی اجزاء حیوانی غذاؤں میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ نباتی غذاؤں میں بھی موجود ہوتے ہیں، البتّہ ان میں حیوانی غذاؤں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔
حیوانی غذائیں جن میں موادِ مُلحِمہ (پروٹینز) زیادہ مِقدار میں پائے جاتے ہیں، گوشت، انڈے، مچھلی، دودھ، دہی، پنیر وغیرہ ہیں اور جن نباتی غذاؤں میں یہ اجزاء پائے جاتے ہیں وہ گہیوں، چنا، مٹر، سیم، دال ماش اور مونگ، بادام، اخروٹ، کاجو وغیرہ ہیں۔
اس قِسم کی غذاؤں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان سے خالی نہیں ہے، چناچہ اگر کوئی شخص اس قِسم کی غذائیں ضرورت سے زیادہ کھاتا پیتا ہے تو اس کے جِسم میں ضرورت سے زیادہ خون پیدا ہونے لگتا ہے، اس کا مزاج میانے سے ہٹ جاتا ہے اور اس کو مختلف قِسم کی خون کی بیماریاں ستانے لگتی ہیں۔



Comments
Post a Comment