موٹاپا کا علاج
موٹاپے کا عِلاج:
آپ کا وزن دن بدن بڑھ رہا ہے اور طاقت کم ہوتی جارہی ہے، اُٹھنا بیٹھنا اور تیز چلنا مشکل ہوگیا ہو، کام کاج کو جی نہیں کرتا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بس ذرا سی توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمارے جِسم میں رطوبات کے اخراج اور اجتماع کے نظام پائے جاتے ہیں، انہیں دو نظام کی کمی بیشی سے موٹاپا اور دُبلا پن کی عِلامات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
نظامِ جاذبہ: یہ نظام ہمارے جِسم رطوبات کو روک کر رکھتا ہے اور اِخراج کا عمل سُست کر دیتا ہے۔ مردوں میں پیشاب اور پسینہ کی اِخراج سُست ہو جاتا ہے تو دُبلا پن ختم ہو کر موٹاپا شروع ہو جاتا ہے۔ عورتوں میں حیض اور پیشاب و پسینے کا اِخراج کم ہو کر موٹاپا ہو جاتا ہے۔
نظامِ ناقلہ: اس نظام سے جِسم سے فاضل مواد پسنہ، پیشاب اور حیض وغیرہ کا اِخراج ہوتا ہے۔ اگر طبعی افعال کے مطابق یہ نظام چلتا رہے تو کبھی موٹاپا نہیں آتا۔
موٹاپا کی اِقسام: موٹاپا کی دو اِقسام ہیں، ایک نرم موٹاپا جو حرارت کی زیادتی کی وجہ سے جِسم پھلاؤ میں آکر موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے، جِسم نرم اور کُپا کی طرح ہو جاتا ہے۔ دوسرا سخت موٹاپا چربی والا، یہ موٹاپا جِسم میں رطوبات کے اجتماع سے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جِسم میں چربی کی زیادتی ہو جاتی ہے اور جِسم میں سختی ہوتی ہے۔ یہی چربی والا موٹاپا خواتین میں بندشِ حیض اور بے اولادی کا سبب بنتا ہے۔
1۔ موٹاپے کا عِلاج:
اوّل قِسم کے موٹاپے میں حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس کے لیے ہلیلہ سیاہ بریاں 50 گرام، آملہ 20 گرام، پھٹکڑی بریاں 10 گرام پیس کر باریک پوڈر بنا لیں۔ آدھا چمچ دن میں تین بار استعمال کریں۔
2۔ موٹاپے کا عِلاج:
دوئم قِسم کے موٹاپے کے لیے اس میں چربی اور رطوبات کی زیادتی ہوتی ہے، زنجبیل، سناءمکی ہر ایک 100 گرام، نوشادر 50 گرام، فلفل سیاہ 25 گرام، ریوند عصارہ 20 گرام پیس کر پوڈر بنا لیں۔ آدھا چمچ چائے والا دن میں تین مرتبہ استعمال کریں۔
نوٹ: موٹاپا ہر دو قِسم میں پیاس لگنے پر پانی نیم گرم کا استعمال کریں، ٹھنڈا پانی ہرگز استعمال نہ کریں۔ چاول، آلو، مِٹھائیوں اور چٹ پٹی اشیاء ترک کر دیں۔ جوس، لسّی، املی آلوبخارے کا شربت، گنے کا جُوس، نمکین سکنجبین اور ادرک، چھوٹی الائیچی کا قہوہ استعمال کریں۔ ایسی چیزیں استعمال کریں جس کے استعمال سے پیشاب زیادہ خارج ہو، جِسم میں نچوڑ پیدا کرے، جِسم سے موٹاپا کم ہو جلاب آور اشیاء استعمال نہیں کرنی۔ (کسی بھی قِسم کا عِلاج کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں، اپنے آپ عِلاج کرنے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔




Comments
Post a Comment