حاملہ کی حفاظت:
حاملہ کی حفاظت ہی سے حمل محفوظ رہ سکتا ہے۔ بے احتیاطی اختیار کرنے سے نہ حمل کی حفاظت ہو سکتی ہے اور نہ حاملہ کی، بلکہ بعض اوقات حمل کے ساتھ حاملہ کی جان ہلاکت میں پڑ جاتی ہے۔
حاملہ کی حفاظت کے لیے اس کو پاک صاف کُھلی ہوا میں رکھا جائے۔ ایک صاف سُتھرا کمرہ جس میں ہوا اور روشنی آزادی کے ساتھ آسکے، اُس کے سونے اور آرام کرنے کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ صاف سُتھرا پانی پینے کے لیے دیا جائے۔ جسم کے صفائی کے لیے وہ روزانہ نہائے، نہانے کے لیے گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم پانی استعمال کیا جائے، لیکن اگر حاملہ کمزور ہو تو اس کے لیے گرمیوں میں بھی نہانے کے لیے ہلکا گرم پانی ہی مناسب ہے۔ نہانے دُھونے کے بعد صاف سُتھرے کپڑے پہنے جائیں۔ کپڑے موسم کی گرمی و سردی کے مطابق ہوں اور جیسے بھی ہوں، کُشادہ ہوں۔ تنگ کپڑے ہرگز نہ پہنے اور نہ ازار بند کَس کر باندھیں۔
حاملہ کے لیے رات کو کم از کم آٹھ گھنٹے نیند لینے کی ضرورت ہے۔ دن میں خاص کر گرمی کے دنوں میں دوپہر کو ایک دو گھنٹے سو رہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اکثر بستر پر پڑے رہنا ہرگز مناسب نہیں۔ ہر وقت سُست پڑے رہنے سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور قبض رہنے لگتا ہے، جو حاملہ کے لیے بہت مُضر ہے۔ گھر کا کام کاج جو بھی کیا جا سکے ضرور کریں، لیکن بھاگنا دوڑنا، اُچھلنا کودنا، کوئی بھاری چیز اُٹھانا اور بار بار زینہ پر اُترنا چڑھنا حاملہ کے لیے نقصان کی چیزیں ہیں اور ان سے بچنا ہی بہتر ہے۔ ان کے عِلاوہ حاملہ کے لیے تانگہ یا بیل گاڑی کی سواری جس میں زور سے ہچکولے لگیں ٹھیک نہیں ہے۔
حاملہ کو ہر قِسم کے رنج و غم، فکر و تردّد، غصّہ اور خوف سے بچانا ضروری ہے۔ بعض اوقات کسی غیر معمولی صدمہ کے پہنچنے یا اچانک ڈر جانے سے حمل گِر جاتا ہے۔ زمانہ حمل میں حاملہ کو چاہیے کہ وہ تندرُست اور طاقتور بچّہ پیدا کرنے کے لیے ہر وقت خوش و خرم رہے۔ خیالات کو پاکیزہ رکھے اور کسی ایسے گھر نہ جائے جہاں کوئی وبائی امراض میں مبتلا ہو یا رہ چُکا ہو۔ کوئی تیز دست آور یا قے آور دوا بھی حاملہ کو ہرگز نہیں دینی چاہیے۔
حاملہ کی غذا:
حاملہ کے لیے مناسب غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ حاملہ کو ہمیشہ سادہ مقّوی غذائیں جو جلد ہضم ہو جائیں دینی چاہییں۔ مثلاّ مونگ کی دال روٹی دیں یا سبز ترکاریاں جیسے گھیا (لوکی)، ٹنڈے، توری، شلجم، چقندر، گاجر، ٹماٹر، ساگ یا پالک روٹی کے ساتھ کھلائیں۔ گوشت کھانے کے لیے بکرے کے گوشت کے شوربے سے کھلائیں۔ اگر اس کے ساتھ سبز ترکاریوں میں سے کوئی ترکاری پکوائی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ ان کے عِلاوہ دودھ، چاول، کھیر، فیرنی، ساگودانہ اور کھچڑی بھی کھلا سکتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ دہی، مکھن، چھاچھ شوق سے استعمال کرائیں۔ نیم برشت (آدھا اُبلا ہوا) انڈا اور مچھلی بھی کھلائیں۔ آم، خربوزہ، تربوز، انار، انگور، لوکاٹ وغیرہ میں سے جو بھی پھل مِلے ضرور کھلائیں، لیکن ہر قِسم کی قابض، بادی اور دیر ہضم غذاؤں سے جیسے لوبیا، مسور، اروی، بیگن اور بھنڈی سے پرہیز کرائیں۔ حاملہ عورتیں کوئی نشہ آور چیز ہرگز نہ کھائیں پیئں، چائے اور قہوہ جیسی چیزیں بھی مناسب نہیں ہیں لیکن سردیوں میں اعتدال کے ساتھ پی سکتی ہیں۔
حاملہ کو جو بھی غذا دی جائے وہ اچھّی طرح پکّی ہوئی اور تازہ ہو، کچّی پکّی، باسی بُسی ہوئی چیز ہرگز نہ دیں، خوب بھوک لگنے پر غذا کھائی جائے اور کم کھائی جاَ۔
حاملہ کی حفاظت ہی سے حمل محفوظ رہ سکتا ہے۔ بے احتیاطی اختیار کرنے سے نہ حمل کی حفاظت ہو سکتی ہے اور نہ حاملہ کی، بلکہ بعض اوقات حمل کے ساتھ حاملہ کی جان ہلاکت میں پڑ جاتی ہے۔
حاملہ کی حفاظت کے لیے اس کو پاک صاف کُھلی ہوا میں رکھا جائے۔ ایک صاف سُتھرا کمرہ جس میں ہوا اور روشنی آزادی کے ساتھ آسکے، اُس کے سونے اور آرام کرنے کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ صاف سُتھرا پانی پینے کے لیے دیا جائے۔ جسم کے صفائی کے لیے وہ روزانہ نہائے، نہانے کے لیے گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم پانی استعمال کیا جائے، لیکن اگر حاملہ کمزور ہو تو اس کے لیے گرمیوں میں بھی نہانے کے لیے ہلکا گرم پانی ہی مناسب ہے۔ نہانے دُھونے کے بعد صاف سُتھرے کپڑے پہنے جائیں۔ کپڑے موسم کی گرمی و سردی کے مطابق ہوں اور جیسے بھی ہوں، کُشادہ ہوں۔ تنگ کپڑے ہرگز نہ پہنے اور نہ ازار بند کَس کر باندھیں۔
حاملہ کے لیے رات کو کم از کم آٹھ گھنٹے نیند لینے کی ضرورت ہے۔ دن میں خاص کر گرمی کے دنوں میں دوپہر کو ایک دو گھنٹے سو رہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اکثر بستر پر پڑے رہنا ہرگز مناسب نہیں۔ ہر وقت سُست پڑے رہنے سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور قبض رہنے لگتا ہے، جو حاملہ کے لیے بہت مُضر ہے۔ گھر کا کام کاج جو بھی کیا جا سکے ضرور کریں، لیکن بھاگنا دوڑنا، اُچھلنا کودنا، کوئی بھاری چیز اُٹھانا اور بار بار زینہ پر اُترنا چڑھنا حاملہ کے لیے نقصان کی چیزیں ہیں اور ان سے بچنا ہی بہتر ہے۔ ان کے عِلاوہ حاملہ کے لیے تانگہ یا بیل گاڑی کی سواری جس میں زور سے ہچکولے لگیں ٹھیک نہیں ہے۔
حاملہ کو ہر قِسم کے رنج و غم، فکر و تردّد، غصّہ اور خوف سے بچانا ضروری ہے۔ بعض اوقات کسی غیر معمولی صدمہ کے پہنچنے یا اچانک ڈر جانے سے حمل گِر جاتا ہے۔ زمانہ حمل میں حاملہ کو چاہیے کہ وہ تندرُست اور طاقتور بچّہ پیدا کرنے کے لیے ہر وقت خوش و خرم رہے۔ خیالات کو پاکیزہ رکھے اور کسی ایسے گھر نہ جائے جہاں کوئی وبائی امراض میں مبتلا ہو یا رہ چُکا ہو۔ کوئی تیز دست آور یا قے آور دوا بھی حاملہ کو ہرگز نہیں دینی چاہیے۔
حاملہ کی غذا:
حاملہ کے لیے مناسب غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ حاملہ کو ہمیشہ سادہ مقّوی غذائیں جو جلد ہضم ہو جائیں دینی چاہییں۔ مثلاّ مونگ کی دال روٹی دیں یا سبز ترکاریاں جیسے گھیا (لوکی)، ٹنڈے، توری، شلجم، چقندر، گاجر، ٹماٹر، ساگ یا پالک روٹی کے ساتھ کھلائیں۔ گوشت کھانے کے لیے بکرے کے گوشت کے شوربے سے کھلائیں۔ اگر اس کے ساتھ سبز ترکاریوں میں سے کوئی ترکاری پکوائی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ ان کے عِلاوہ دودھ، چاول، کھیر، فیرنی، ساگودانہ اور کھچڑی بھی کھلا سکتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ دہی، مکھن، چھاچھ شوق سے استعمال کرائیں۔ نیم برشت (آدھا اُبلا ہوا) انڈا اور مچھلی بھی کھلائیں۔ آم، خربوزہ، تربوز، انار، انگور، لوکاٹ وغیرہ میں سے جو بھی پھل مِلے ضرور کھلائیں، لیکن ہر قِسم کی قابض، بادی اور دیر ہضم غذاؤں سے جیسے لوبیا، مسور، اروی، بیگن اور بھنڈی سے پرہیز کرائیں۔ حاملہ عورتیں کوئی نشہ آور چیز ہرگز نہ کھائیں پیئں، چائے اور قہوہ جیسی چیزیں بھی مناسب نہیں ہیں لیکن سردیوں میں اعتدال کے ساتھ پی سکتی ہیں۔
حاملہ کو جو بھی غذا دی جائے وہ اچھّی طرح پکّی ہوئی اور تازہ ہو، کچّی پکّی، باسی بُسی ہوئی چیز ہرگز نہ دیں، خوب بھوک لگنے پر غذا کھائی جائے اور کم کھائی جاَ۔


Comments
Post a Comment