Carbohydrates
موادِ نشائیہ (Carbohydrates):
موادِ نشائیہ (نشاستہ دار اجزاء)، ان کو کاربوہائیڈریٹس بھی کہتے ہیں۔ جن غذاؤں میں یہ مواد پائے جاتے ہیں وہ ہمارے جِسم میں قوّت اور گرمی پیدا کرتی ہیں، اس لیے ان کو مُولّدِ حرارت بھی کہتے ہیں۔ اس قِسم کے مواد والی غذائیں موادِ مُلحمہ رکھنے والی غذاؤں سے زود ہضم ہوتی ہیں، لیکن ان کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ہضم خراب ہو جاتا ہے، دست آنے لگتے ہیں اور اگر ان کا سِلسلہ مدّت تک جاری رہے تو مرض ذیابیطس پیدا ہو جاتا ہے۔
اس قِسم کے اجزاء تمام نشاستہ دار غذاؤں، گُڑ، شکر اور ان تمام چیزوں میں پائے جاتے ہیں جن میں شکر ہوتی ہے۔ نشاستہ دار غذاؤں کی مثال آلو، شکرکند، سنگھاڑہ، چاول، اراروٹ، ہر قِسم کے غلّے مثلاً گیہوں، چنا، جَو، جوار، باجرہ، مکئی اور ہر قِسم کی دالیں مثلاً مٹر، مسور، مونگ وغیرہ ہیں۔ گنّا، گاجر، چقندر اور شکرکند اور تمام میٹھے پھلوں میں شکر پائی جاتی ہے۔ ایک نوجوان آدمی کے لیے اس قِسم کی غذا روزآنہ 100 سے 150 گرام کھانے کی ضرورت ہے۔
موادِ نشائیہ (نشاستہ دار اجزاء)، ان کو کاربوہائیڈریٹس بھی کہتے ہیں۔ جن غذاؤں میں یہ مواد پائے جاتے ہیں وہ ہمارے جِسم میں قوّت اور گرمی پیدا کرتی ہیں، اس لیے ان کو مُولّدِ حرارت بھی کہتے ہیں۔ اس قِسم کے مواد والی غذائیں موادِ مُلحمہ رکھنے والی غذاؤں سے زود ہضم ہوتی ہیں، لیکن ان کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ہضم خراب ہو جاتا ہے، دست آنے لگتے ہیں اور اگر ان کا سِلسلہ مدّت تک جاری رہے تو مرض ذیابیطس پیدا ہو جاتا ہے۔
اس قِسم کے اجزاء تمام نشاستہ دار غذاؤں، گُڑ، شکر اور ان تمام چیزوں میں پائے جاتے ہیں جن میں شکر ہوتی ہے۔ نشاستہ دار غذاؤں کی مثال آلو، شکرکند، سنگھاڑہ، چاول، اراروٹ، ہر قِسم کے غلّے مثلاً گیہوں، چنا، جَو، جوار، باجرہ، مکئی اور ہر قِسم کی دالیں مثلاً مٹر، مسور، مونگ وغیرہ ہیں۔ گنّا، گاجر، چقندر اور شکرکند اور تمام میٹھے پھلوں میں شکر پائی جاتی ہے۔ ایک نوجوان آدمی کے لیے اس قِسم کی غذا روزآنہ 100 سے 150 گرام کھانے کی ضرورت ہے۔



Comments
Post a Comment