مواد شحمیہ fates
موادِ شحمّیہ (Fats):
موادِ شحمّیہ (روغنی اور چربیلے اجزاء)، اس قِسم کے اجزاء ہر قِسم کی چربی اور روغنوں میں پائے جاتے ہیں، یہ ہمارے جِسم میں قوّت و حرارت پیدا کرتے اور اس کو موٹا بناتے ہیں۔ عام طور پر ایک جوان آدمی کے لیے روزانہ تقریباً 50 گرام روغنی مواد کی ضرورت ہے، البتّہ محنتی اور جفاکش آدمی 100, 120 گرام تک بھی استعمال کر سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو روزانہ گھی، تیل، چربی مِلا کر اس سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، اگر روغنی اجزاء ضرورت سے زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں تو بھوک بند ہوجاتی ہے یا بلکل کم لگنے لگتی ہے، ہضم خراب ہو جاتا ہے، اور دست آنے لگتے ہیں یا ان کے کثرتِ استعمال سے جِسم میں چربی بڑھ جاتی ہے، آدمی موٹا ہو جاتا ہے اور اس کی توند نِکل آتی ہے۔
موادِ شحمّیہ (روغنی اور چربیلے اجزاء)، اس قِسم کے اجزاء ہر قِسم کی چربی اور روغنوں میں پائے جاتے ہیں، یہ ہمارے جِسم میں قوّت و حرارت پیدا کرتے اور اس کو موٹا بناتے ہیں۔ عام طور پر ایک جوان آدمی کے لیے روزانہ تقریباً 50 گرام روغنی مواد کی ضرورت ہے، البتّہ محنتی اور جفاکش آدمی 100, 120 گرام تک بھی استعمال کر سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو روزانہ گھی، تیل، چربی مِلا کر اس سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، اگر روغنی اجزاء ضرورت سے زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں تو بھوک بند ہوجاتی ہے یا بلکل کم لگنے لگتی ہے، ہضم خراب ہو جاتا ہے، اور دست آنے لگتے ہیں یا ان کے کثرتِ استعمال سے جِسم میں چربی بڑھ جاتی ہے، آدمی موٹا ہو جاتا ہے اور اس کی توند نِکل آتی ہے۔



Comments
Post a Comment