Jangli khurfa kia he?

جنگلی خرفہ:
جنگلی خرفہ مفت میں ملنے والی وٹامن سی سے بھر پور غذا ہے۔ خدا کا شکر ہم کیسے ادا کر سکتے ہیں جس نے ہمارے بدن کی پرورش کے لیے رنگا رنگ سبزیاں زمین سے پیدا کیں۔ ہر ملک کی آب و ہوا کے مطابق لا تعداد گھاس پھوس کے بیج زمین میں بو دیے تا کہ ہمیشہ موسم پر مختلف سبزی ترکاری اُگتی رہے اور ہماری غذا کے کام آتی رہے۔ ایک معمولی سی ترکاری جنگلی خرفہ ہے جو خود بخود باغوں، جنگل اور ایسی زمینوں میں جہاں معمولی پانی آتا جاتا رہتا ہو، عموماً سارا سال دکھائی دیتی ہے۔ عوام اسے کلفہ کا ساگ اور عربی میں اس سونے سے زیادہ قیمیی؁ت ترکاری کا نام بقلتہ المبارک رکھا ہوا ہے۔ یہ زمین پر پھیلی ہوئی ایک فٹ کے قریب لمبی بیل ہے جس کے پتے چوتھائی سے آدھی انچ تک لمبے اور گول چوڑائی میں انچ کا پانچواں حصّہ کے قریب ہوتے ہیں۔ مسور کے دانے جتنا پانچ پنکھڑیوں وال زرد رنگ کا خوشنما پھول درمیان میں زیرہ جڑا ہوا جگہ جگہ بے حد دلکش نظارہ دیتا ہے۔ مخروطی باجرے کے دانے کے برابر گھنڈیوں میں خشخاش کے دانے سے بہت باریک سیاہ رنگ کے بیج بھرے ہوتے ہیں۔ حکیموں نے اس غذائیت سے بھر پور شفا بخش سبزی پر ریسرچ کر کے اس کو کاشت کرنے کا رواج دیا۔ صدیوں سے ہمارے کھیتوں میں خرفہ بویا جاتا ہے اور سخت گرمی کے موسم میں چار پانچ مہینے ہمارے دسترخوان کی رونق بڑھاتا ہے۔ خرفے کا ساگ جسے گرمی اور قبض دُور کرنے کے لیے ہمارے گھروں میں بطور سالن پکایا جاتا ہے۔ اس کے پتّے انچ سوا انچ تک گول ہرے رنگ و سُرخی کی جھلک لیے ہوئے سُرخ ڈنڈی والے توہمارے معاشرے میں مشہور ہیں۔ پیلے پُھول والا چھوٹی قِسم کا جنگلی خرفہ جہاں باغوں، مکانوں اور کوٹھیوں کے باہر بیل بوٹوں سے بچا کھچا پانی آ جاتا ہے اپنے آپ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا ساگ گرمی دُور کرنے، خُون کا جوش بٹھانے، معدہ اور آنتوں سے تیزابیت رفع کرنے کے لیے بیماروں کو استعمال کرایا جاتا ہے۔
اس کے بیج جِسم کے کسی بھی حصّہ سے خون جاری ہوتا ہو، خواہ نکسیر کی شکل میں، خواہ بواسیر میں اور خواہ مستورات میں ماہواری کی زیادتی میں، ایک بے حد سستا، ہر جگہ مِلنے وال اور کامیاب علاج ہے۔ اس سبزی ترکاری کا مِزاج سرد تر ہے اور معدہ اسے تین گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے۔
اس کے 2500 گرام ساگ میں ایک روٹی کے برابر غذائیت ہوتی ہے، اس میں گوشت پیدا کرنے والے روغنی اور قبض کشا نمکیات، فولاد، پوٹاشیم کے عِلاوہ وٹامن سی کی کافی مِقدار ہوتی ہے۔ غریب طبقہ اور معدہ کی تیزابیت والے مریض شہر کے اندر باغوں یا شہر کے باہر، سیر کرتے، چلتے پھرتے اگر جنگلی خرفہ 50، 60 گرام توڑ کر اس کھارے مزہ کی سبزی کو چند روز کھانے کی عادت ڈالیں تو مفت میں پیٹ بھرنے کے عِلاوہ ایک ٹھنڈا خون پیدا کرنے اور معدہ کی تیزابیت دُور کرنے والا ناشتہ بھی ہو جائے۔
یونانی حکیموں کے تجربے میں یہ سبزی ترکاری لوکی (گھیا کدّو) اور کاہو سے زیادہ رطوبت بدن میں پیدا کرتی ہے۔ ہمارے ملک کے عوام اکثر قبض دُور اور معدہ آنتوں کو ہلکا کرنے کے لیے گرم خشک پیٹنٹ دوائیں استعمال کرکے اپنا پیسہ ضائع کرتے ہیں۔ اس ساگ میں ہلکے قبض اور نمکین قبض کشا اجزا کی موجودگی، قبض رفع کرنے کے ساتھ معدہ اور آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتی، گرم مِزاج اور آگ سے پھنکے ہوئے جوان مرد و عورتوں کے لیے یہ کھارے مزے والی غذا اور بے ضرر دوا ہے۔ سرد مِزاج بلغمی طبعیت اور بڑی عمر والے بڑھوں کو یہ دیر میں ہضم ہوتا ہے اور کچھ قبض پیدا کرتا ہے۔
1۔ خرفہ پیشاب کی تیزابیت کو بھی دُور کرتا اور پیشاب کے ذریعہ مثانہ اور گردوں کے زہریلے فضلات بہا کر بدن سے باہر نکال دیتا ہے۔ 30 تا 72 ملی لیٹر تک اس کا پانی پینے سے پیشاب کی جلن دُور اور جگر کی گرمی کافور ہو جاتی ہے۔
2۔ بڑھے ہوئے پیٹ کو ہلکا کرنے کے لیے سادہ یا گوشت میں پکا کر اس کی سبزی چند ہفتے استعمال کرنے سے فائدہ ہو جاتا ہے۔
3۔ لبلے اور گردوں کی گرمی رفع کرنے اور مرض ذیابیطس میں شکر کا اخراج کم کرنے کے لیے صبح و شام اس کے 30 تا 60 ملی لیٹر پانی پینے ے فائدہ ہوتا ہے۔
خرفہ کے کھارے اجزا ہی شفا بخش اثرات رکھتے ہیں، ہمارے گھروں میں عام طور پر سالن بناتے وقت پانی میں جوش دے کر خرفے کا پانی نِکال دیا جاتا ہے جس سے اس کی دوائی اور غذائی قیمت کم ہو جاتی ہے۔

Comments

Popular Posts