آتشک کیا ہے

آتشک:
آتشک ایک سخت چھوت دار مرض ہے، جس میں مرض کے جراثیم پہلے پہل اکثر عضو مخصوص میں اور کبھی دوسرے عضو میں داخل ہو کر اُس جگہ میں زخم پیدا کر دیتے ہیں، پھر اس زخم سے جراثیم خون کے ساتھ مِل کر سارے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔
آتشک کے جراثیم زیادہ تر جنسی میل جول سے تندرُست آدمی میں پہنچ جاتے ہیں۔ اگر مرد کو یہ مرض ہوتا ہے تو اس کے ذریعہ عورت کو بھی یہ مرض ہو جاتا ہے اور اگر عورت کو ہوتا ہے تو اس کے ساتھ مِلنے والا مرد بھی اس میں مُبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آتشک کے مریض کا بوسہ لینے، اس کا جوٹھا کھانا کھانے، جوٹھا پانی پینے بلکہ اُس کے جوٹھے برتن اور اس کے استعمال شدہ کپڑے پہننے اور اُس کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے سے بھی یہ مرض ہوسکتا ہے۔
آتشک میں مُبتلا جوڑے سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے اُس میں بھی نطفہ کے ذریعہ یہ مرض پہنچ جاتا ہے، اس صورت میں آتشک موروثی کہلاتا ہے۔ اگر کوئی تندرُست عورت ایسے بچہ کو دودھ پلائے تو اُس کی بُھٹنیوں کی خراش کے ذریعہ بھی اس مرض کے جرثیم تندرُست عورت کے جسم میں پہنچ جاتے ہیں اور اس مرض میں مُبتلا کر دیتے ہیں۔
عِلامتیں:
جب کسی آدمی کے جسم میں اس مرض کے جراثیم پہنچ جاتے ہیں تو مرد کے عضو مخصوص اور عورت کے اندام نہانی کے کناروں پر سخت اُبھار یا تانبے کے رنگ کی سی سُرخ پُھنسی پیدا ہوتی ہے، جس کے جڑ سخت ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ پُھنسی بڑھتی اور زخم بن جاتی ہے۔ لیکن اس زخم سے مواد بہت کم نِکلتا ہے۔ زخم پیدا ہونے کے تقریباً ایک ہفتہ کے بعد جنگاسوں کی گِلٹیاں سوج جاتی ہیں، جن میں نہ درد ہوتا ہے نہ پکتی اور پھوٹتی ہیں۔
آتشک کا زخم پیدا ہونے کے تقریباً ڈیڑھ مہینہ کے بعد اس مرض کا دوسرا درجہ شروع ہوتا ہے، اس درجہ میں آتشک کا زہر سارے جسم میں پھیل جاتا ہے، عام جسمانی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، مریض سُست اور پست ہمت رہنے لگتا ہے۔ سارے جسم پر گلابی رنگ کے دانے نِکل آتے ہیں۔ عضلات اور ہڈّیوں میں درد رہنے لگتا ہے، ہر وقت ہلکا ہلکا بُخار رہنے لگتا ہے اور ہاضمہ بگڑ جاتا ہے۔
جسم پر جو گلابی رنگ کے دانے نِکلتے ہیں، آخر اُنکی رنگت سُرخ سیاہی مائل ہو جاتی ہے، تقریباً دو ماہ کے بعد دانّے اچھّے ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ جِلد پر کالے رنگ کے داغ رہ جاتے ہیں۔ کبھی ان دانوں میں پیپ بھی پڑ جاتی ہے، لیکن ان میں درد، جلن اور خارش بلکل نہیں ہوتی۔
اس کے بعد اس مرض کے دوسرے درجہ کا دور شروع ہوتا ہے، لیکن سب مریضوں میں تیسرے درجہ کی علامتوں کا ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ چنانچہ جن مریضوں کا شروع ہی سے مناسب علاج کیا جاتا ہے، اُن میں یہ علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی بھی ہیں تو بہت ہلکی ہوتی ہیں، لیکن بعض مریضوں میں مناسب علاج سے تندرُست ہوجانے کے باوجود پندرہ بیس سال کے بعد تیسرے درجہ کی عِلامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔
تیسرے درجہ میں جِسم کے مختلف اعضاء میں خاص قسم کے اُبھار پیدا ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی اس میں پیپ پڑ جاتی ہے، ہڈیاں گلنے سڑنے لگتی ہیں، نرخرے کی کُرّیاں گل جاتی ہیں، آواز بیٹھ جاتی ہے، ناک کی ہڈّی گل جانے سے ناک کا بانسہ بیٹھ جاتا ہے، تالو میں سوراخ ہو جاتا ہے، مریض گُنگُنا کر بولنے لگتا ہے۔ آخر کا مریض نظام عصبی یا دل کے کسی مرض میں مُبتلا ہو کر مر جاتا ہے۔

Comments

Popular Posts