پنواڑ کے فوائد
پنواڑ:
یہ بُوٹی برسات میں اُجاڑ زمین میں بہت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پودا آدھ گز تک اونچا ہوتا ہے، کئی شاخیں ہوتی ہیں اور ان پر ذرا گول لمبے پتّے لگے ہوتے ہیں جو رات کو بند ہو جاتے ہیں اور دن کو کُھل جاتے ہیں۔ پھول زرد رنگ کے آتے ہیں اور لمبی لمبی پھلیاں لگتی ہیں۔ جب وہ خشک ہو جاتی ہیں تو ان کے اندر سے موٹھ کے دانے جیسے بیج نِکلتے ہیں۔ یہی تخم پنواڑ کے نام سے دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
فوائد و استعمال:
یہ بُوٹی مصفیٰ خون ہے۔ اس کے بیجوں کا پانی میں پیسا ہوا لیپ داد، کُھجلی، برص، چھپ اور جھائیں کو دُور کرنے کے لیے فائدہ مند ہے۔
۱۔ بلغمی کھانسی، دمہ، پُرانا داد، کُھجلی، برص (پُھلبھری) کا مرض ہو یا چھیپ اور جھائیں کی شکایت ہو، ان سب حالات میں تخم پنواڑ کوٹ چھان کر برابر وزن کھانڈ مِلا کر روزآنہ پانچ گرام کھائیں اور برابر پانچ ہفتے تک کھاتے رہیں تو یہ سب شکائتیں دُور ہو جائیں گیں۔ مقامی طور پر تخم پنواڑ کو سرکہ یا نیبو کے رس میں پیس کر لگائیں۔
۲۔ تخم پنواڑ کو ایک کپ دہی میں بِھگو رکھیں۔ دو تین روز بعد جب وہ سڑ جائیں تو داد کو کپڑے سے کُھجا کر اس کا لیپ لگائیں۔ چند بار لگانے سے داد اچھّا ہو جائے گا۔ اگر بیرونی استعمال کے ساتھ تخم پنواڑ کھائیں بھی تو زیادہ بہتر ہے۔
۳۔ پنواڑ کے بیج چھ گرام پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور شہد پچیس گرام مِلا کر پییں۔ کھانسی اور سانس کی تنگی کے لیے مفید ہے۔
یہ بُوٹی برسات میں اُجاڑ زمین میں بہت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پودا آدھ گز تک اونچا ہوتا ہے، کئی شاخیں ہوتی ہیں اور ان پر ذرا گول لمبے پتّے لگے ہوتے ہیں جو رات کو بند ہو جاتے ہیں اور دن کو کُھل جاتے ہیں۔ پھول زرد رنگ کے آتے ہیں اور لمبی لمبی پھلیاں لگتی ہیں۔ جب وہ خشک ہو جاتی ہیں تو ان کے اندر سے موٹھ کے دانے جیسے بیج نِکلتے ہیں۔ یہی تخم پنواڑ کے نام سے دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
فوائد و استعمال:
یہ بُوٹی مصفیٰ خون ہے۔ اس کے بیجوں کا پانی میں پیسا ہوا لیپ داد، کُھجلی، برص، چھپ اور جھائیں کو دُور کرنے کے لیے فائدہ مند ہے۔
۱۔ بلغمی کھانسی، دمہ، پُرانا داد، کُھجلی، برص (پُھلبھری) کا مرض ہو یا چھیپ اور جھائیں کی شکایت ہو، ان سب حالات میں تخم پنواڑ کوٹ چھان کر برابر وزن کھانڈ مِلا کر روزآنہ پانچ گرام کھائیں اور برابر پانچ ہفتے تک کھاتے رہیں تو یہ سب شکائتیں دُور ہو جائیں گیں۔ مقامی طور پر تخم پنواڑ کو سرکہ یا نیبو کے رس میں پیس کر لگائیں۔
۲۔ تخم پنواڑ کو ایک کپ دہی میں بِھگو رکھیں۔ دو تین روز بعد جب وہ سڑ جائیں تو داد کو کپڑے سے کُھجا کر اس کا لیپ لگائیں۔ چند بار لگانے سے داد اچھّا ہو جائے گا۔ اگر بیرونی استعمال کے ساتھ تخم پنواڑ کھائیں بھی تو زیادہ بہتر ہے۔
۳۔ پنواڑ کے بیج چھ گرام پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور شہد پچیس گرام مِلا کر پییں۔ کھانسی اور سانس کی تنگی کے لیے مفید ہے۔



Comments
Post a Comment