نزلہ زکام
نزلہ و زکام
نزلہ زکام درحقیقت ایک ہی مرض کے دونام ہیں۔ اگر دونوں میں فرق ہے تو اتنا کہ جب ناک کے اندر پھیلنے والی جھلّی سُوج جاتی ہے، چھینکیں آتی ہیں اور پتلاپتلا پانی ناک سے بہنے لگتا ہے تو اسے خاص طور پر زکام کہتے ہیں اور جب حلق کی جھلّی سوج جاتی ہے اور اس کی وجہ سے حلق میں خراش ہو جاتی ہے، کھانسی اُٹھنے لگتی ہے تواس کو نزلہ کہتے ہیں۔ عام طور پر زکام کے لیے بھی نزلہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
سردی لگنا، پانی میں بھیگنا، گرماگرم کھانا کھا کر فوراً ٹھنڈا پانی پینا، کھٹّی اور ٹھنڈی چیزوں کا زیادہ کھانا پینا، گردوغبار اور دھوئیں کا ناک میں پہنچنا نزلہ زکام کے عام اسباب ہیں۔
جن لوگوں کے دماغ اور اعصاب (پٹھے) کمزور ہوتے ہیں۔ وہ مندرجہ بالا وجوہات سے جلد اثرلیتے ہیں اور نزلہ زکام میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ معدہ اور آنتوں کی کمزوری اور قبض کی وجہ سے بھی یہ مرض پیدا ہوتا ہے اور جب باربار نزلہ زکام کی شکایت پیدا ہونے لگتی ہے اور اس کے کچھ اثرات ہر وقت موجود رہتے ہیں تو اسے پُرانا نزلہ کہتے ہیں۔ اس صورت میں دماغ و اعصاب (پٹھوں) کی کمزوری کے علاوہ ہضم بھی خراب رہتا ہے اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔
نزلہ زکام کو عام طور پر معمولی مرض سمجھا جاتا ہے، لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے حلق میں خطرناک سُوجن پیدا ہو سکتی ہے، کھانسی، دمہ، نمونیا اور سل و دِق جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ آنکھ، ناک اور کان کی مختلف بیماریان ستانے لگتی ہیں، اس لئیے اس مرض سے بچنا چاہیے۔
علاج:۔
زکام کے شروع ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا کے لگنے اور ٹھنڈا پانی پینے سے پرہیز کریں۔ زیادہ گرم چیزیں مثلاً گوشت، گرم مصالہ، لال مرچ اور تیز چائے بھی استعمال نہ کریں۔ ایسی گرم چیزوں کے استعمال سے بہنے والی رطوبتوں کے بند ہو جانے سے طرح طرح کی خطرناک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
نزلہ زکام کے شروع ہونے پر اگر ایک دو وقت کھانا نہ کھائیں تو بہتر ہے اور نہ جلد ہضم ہونے والی سادا غذا کھائیں۔ دودھ، گھی، دہی، چھاچھ اور ہر قسم کی کھٹی چیزوں سے پرہیز کریں اور کوئی قابض و بادی چیز ہرگز نہ کھائیں۔
نزلہ و زکام کی حالت میں دن کے وقت سونا، کھانا کھانے کے فوراً بعد سو جانا، ٹھنڈے پانی سے نہانا، ٹھنڈی ہوا میں سر کُھلا رکھنا، تیز دھوپ میں چلنا پھرنا اور خوشبودارچیزوں کا سونگھنا نقصان پہنچاتا ہے۔ دماغی کمزوری اور جنسی میل ملاپ سے بھی پرہیز ضروری ہے۔ جو نوجوان ناواقفیت کی وجہ سے اس کاخیال نہیں رکھتے وہ دوسرے خطرناک امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
نزلہ و زکام کی حالت میں قبض کا رہنا اچھا نہیں ہے۔ اگر قبض ہو تو کوئی قبض آور دوا لے کر اُسے دور کرنا چاھیے۔
اگر زکام کی حالت میں تھوڑی سوّیاں پانی میں پکائیں اور اس میں تھوڑی چینی ڈال کر سوّیوں سمیت گرما گرم پئیں اور چادر یا لحاف اوڑھ کر لیٹ جائِیں تو زکام بہت جلد پک کر خارج ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر صرف گل بنفشہ سات گرام اور کالی مرچ سات عدد کو تھوڑی سی چینی ڈال کر پکائیں اور پھر چھان کر گرم گرم چائے کی طرح پی کر کمبل یا لحاف اوڑھ کر لیٹ جائیں تو اس سے پسینہ آکر بدن کع سُستی اور درد دور ہو جاتا ہے اور زکام پک جاتا ہے۔
۱۔ چنے بُھنوا کر کپڑے میں پوٹلی باندھ کر سُونگھیں اور اسی سے پیشانی، کنپٹیوں اور ناک کو سینکیں، پھر چنے چبائیں۔ زکام کے لیئے مفید ہیں۔
۲۔ توئے یا کڑھائی کو چولھے پر چڑھائیں، جب خوب گرم ہو جائے تو اس میں ایک پیالی پانی ڈالیں اور ساتھ ہی چند لونگیں اور ذرا سے نمک ڈال دیں۔ اس کے بعد یہ پانی لے کر پییں۔ زُکام میں مفید ہے۔
نزلہ زکام درحقیقت ایک ہی مرض کے دونام ہیں۔ اگر دونوں میں فرق ہے تو اتنا کہ جب ناک کے اندر پھیلنے والی جھلّی سُوج جاتی ہے، چھینکیں آتی ہیں اور پتلاپتلا پانی ناک سے بہنے لگتا ہے تو اسے خاص طور پر زکام کہتے ہیں اور جب حلق کی جھلّی سوج جاتی ہے اور اس کی وجہ سے حلق میں خراش ہو جاتی ہے، کھانسی اُٹھنے لگتی ہے تواس کو نزلہ کہتے ہیں۔ عام طور پر زکام کے لیے بھی نزلہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
سردی لگنا، پانی میں بھیگنا، گرماگرم کھانا کھا کر فوراً ٹھنڈا پانی پینا، کھٹّی اور ٹھنڈی چیزوں کا زیادہ کھانا پینا، گردوغبار اور دھوئیں کا ناک میں پہنچنا نزلہ زکام کے عام اسباب ہیں۔
جن لوگوں کے دماغ اور اعصاب (پٹھے) کمزور ہوتے ہیں۔ وہ مندرجہ بالا وجوہات سے جلد اثرلیتے ہیں اور نزلہ زکام میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ معدہ اور آنتوں کی کمزوری اور قبض کی وجہ سے بھی یہ مرض پیدا ہوتا ہے اور جب باربار نزلہ زکام کی شکایت پیدا ہونے لگتی ہے اور اس کے کچھ اثرات ہر وقت موجود رہتے ہیں تو اسے پُرانا نزلہ کہتے ہیں۔ اس صورت میں دماغ و اعصاب (پٹھوں) کی کمزوری کے علاوہ ہضم بھی خراب رہتا ہے اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔
نزلہ زکام کو عام طور پر معمولی مرض سمجھا جاتا ہے، لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے حلق میں خطرناک سُوجن پیدا ہو سکتی ہے، کھانسی، دمہ، نمونیا اور سل و دِق جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ آنکھ، ناک اور کان کی مختلف بیماریان ستانے لگتی ہیں، اس لئیے اس مرض سے بچنا چاہیے۔
علاج:۔
زکام کے شروع ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا کے لگنے اور ٹھنڈا پانی پینے سے پرہیز کریں۔ زیادہ گرم چیزیں مثلاً گوشت، گرم مصالہ، لال مرچ اور تیز چائے بھی استعمال نہ کریں۔ ایسی گرم چیزوں کے استعمال سے بہنے والی رطوبتوں کے بند ہو جانے سے طرح طرح کی خطرناک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
نزلہ زکام کے شروع ہونے پر اگر ایک دو وقت کھانا نہ کھائیں تو بہتر ہے اور نہ جلد ہضم ہونے والی سادا غذا کھائیں۔ دودھ، گھی، دہی، چھاچھ اور ہر قسم کی کھٹی چیزوں سے پرہیز کریں اور کوئی قابض و بادی چیز ہرگز نہ کھائیں۔
نزلہ و زکام کی حالت میں دن کے وقت سونا، کھانا کھانے کے فوراً بعد سو جانا، ٹھنڈے پانی سے نہانا، ٹھنڈی ہوا میں سر کُھلا رکھنا، تیز دھوپ میں چلنا پھرنا اور خوشبودارچیزوں کا سونگھنا نقصان پہنچاتا ہے۔ دماغی کمزوری اور جنسی میل ملاپ سے بھی پرہیز ضروری ہے۔ جو نوجوان ناواقفیت کی وجہ سے اس کاخیال نہیں رکھتے وہ دوسرے خطرناک امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
نزلہ و زکام کی حالت میں قبض کا رہنا اچھا نہیں ہے۔ اگر قبض ہو تو کوئی قبض آور دوا لے کر اُسے دور کرنا چاھیے۔
اگر زکام کی حالت میں تھوڑی سوّیاں پانی میں پکائیں اور اس میں تھوڑی چینی ڈال کر سوّیوں سمیت گرما گرم پئیں اور چادر یا لحاف اوڑھ کر لیٹ جائِیں تو زکام بہت جلد پک کر خارج ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر صرف گل بنفشہ سات گرام اور کالی مرچ سات عدد کو تھوڑی سی چینی ڈال کر پکائیں اور پھر چھان کر گرم گرم چائے کی طرح پی کر کمبل یا لحاف اوڑھ کر لیٹ جائیں تو اس سے پسینہ آکر بدن کع سُستی اور درد دور ہو جاتا ہے اور زکام پک جاتا ہے۔
۱۔ چنے بُھنوا کر کپڑے میں پوٹلی باندھ کر سُونگھیں اور اسی سے پیشانی، کنپٹیوں اور ناک کو سینکیں، پھر چنے چبائیں۔ زکام کے لیئے مفید ہیں۔
۲۔ توئے یا کڑھائی کو چولھے پر چڑھائیں، جب خوب گرم ہو جائے تو اس میں ایک پیالی پانی ڈالیں اور ساتھ ہی چند لونگیں اور ذرا سے نمک ڈال دیں۔ اس کے بعد یہ پانی لے کر پییں۔ زُکام میں مفید ہے۔



Comments
Post a Comment