جھاؤ کا درخت اور اس کے فوائد

جَھاؤ کا درخت چھوٹا تقریباً دو گز اُونچا ہوتا ہے۔ پتّے سرو کے پتّوں جیسے ہوتے ہیں۔ اس میں چھوٹے چھوٹے کسی قدر گول بے ڈھنگے سے پھل لگتے ہیں، جو بڑی مائیں کے نام سے دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ جَھاؤ کے درخت خاص طور پر دریائے سندھ کے علاقے میں بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔

فوائد و استعمال:

۱۔ جَھاؤ کے پتّے اور اسکی لکڑی بڑھی ہوئی تِلّی کو اصلی حالت میں لاتے ہیں۔ اُن کا لیپ لگاتے ہیں، جوشاندہ پلاتے ہیں، جَھاؤ کی لکڑی کے پیالے میں پانی پینا بھی تِلّی کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔

۲۔ جَھاؤ کے پتّوں کی دُھونی دینے سے زخم خشک ہو جاتے ہیں۔ بواسیری مسّے بھی کچھ دِنوں تک برابر جَھاؤ کے پتّوں کی دُھونی دینے سے مُرجھا کر گِر جاتے ہیں۔

۳۔ مائیں پھل قابض اور خون کو روکنے والے ہیں۔ جریان، رِقّت، سُرعت اور سیلان الرحم (لیکوریا) میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

۴۔ مسوڑھے ڈھیلے پڑ گئے ہوں، دانت ہلتے ہوں تو ان کے جوشاندہ سے کُلیّاں کرنے سے آرام ہو جاتا ہے۔ گلے کے ورم میں اس کے جوشاندے سے غرارے کرنا بھی مفید ہے۔

۵۔ اگر کسی زخم سے خون بہہ رہا ہو تو اس کے بُرکنے سے خون کا بہنا بند ہو جاتا ہے۔ استحاضہ (کثرتِ حیض) کی حالت میں اور مرض سیلان الرحم میں اس کا سفوف تیار کر کے کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔

٦۔ جَھاؤ کے نمک میں فولاد اور کوبالٹ کی بھی خاصی مِقدار پائی جاتی ہے۔

Comments

Popular Posts