السی کے فوائد


السی:
السی کا پودا ایک گز تک اونچا ہوتا ہے۔ اس کی پتًیاں، شاخیں نازک اور باریک ہوتی ہیں۔ موسم سرما کے آخر سے لیکر موسم بہار کے شروع تک نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔ جو پھل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پھل چنے کے برابر ہوتا ہے۔ جو چھوٹے چھوٹے چپٹے نوک دار سُرخ سیاہی مائل بیجوں سے بھرا ہوتا ہے جسے السی کہتے ہیں۔ ان بیجوں سے تیل نکالاجاتا ہے، جو السی کا تیل (روغن کتاں) کہلاتا ہے۔ السی کے بیج اور اُنکا تیل بطور دوا کام آتے ہیں۔
السی برصغیر پاک و ہند، آسٹریلیا، نیوزیلینڈ، ہالینڈ، انگلستان، مصر اور روس میں پائی کاتی ہے۔ اس کی کاشت پچھلے سات ہزار سال سے کی جارہی ہے۔ جبکہ زمانہ قدیم سے السی بیشتر امراض کے علاج اور مٹھائی السی کی پنیاں کے طور پر بھی استمعال ہوتی چلی آئی ہیں۔
السی کے بیج کھانسی اور دمہ میں مفید ہیں۔ بلغم کو آسانی سے نکال دیتے ہیں۔ اس کے لیئے اسکا جوشاندہ پلاتے ہیں اور لعوق بنا کر چٹاتے ہیں۔
۱۔ تخم السی ذرا کوٹے ہوئے، ملًٹھی چھیلی کوٹی ہوئی ہر ایک بارہ گرام دونوں کو ایک پاؤ پانی میں جوش دیں، جب پانی آدھا رہ جائے تو شہد خالص چوبیس گرام ملا کر پلائیں۔ کھانسی اور دمہ میں مفید ہے، بلغم کو خارج کر کے ان تکلیفوں کو دور کر دیتا ہے۔
۲۔ السی مقوی جسم ہے، دردِ کمر کو دور کرتی ہے۔ سردیوں میں اس کے لڈو بنا کر کھاتے ہیں۔
۳۔ السی کا تیل ورموں کو دور کرتا اور دردوں کو تسکین دیتا ہے۔ دردوں اور گٹھیا میں اس کی مالش کی جاتی ہے۔
۴۔ السی کا تیل اور چونے کے پانی سے مرہم بنا کر جلی ہوئی جگہ پر لگانے سے ٹھنڈک پڑتی اور زخموں کو خشک کر دیتا ہے۔

Comments

Popular Posts