بواسیرخونی کا علاج اس بوٹی سے

بکن بوٹی (بکم):

بکن بوٹی عموماً دریاؤں کے کنارے پیدا ہوتی ہے، پتّے لمبوترے ہوتے ہیں۔ باریک حصّہ ڈنٹھل کی طرف ہوتا ہے اور پتّے کناروں پر دندانے دار موٹے ہوتے ہیں۔ اس کی ہر گرہ پر جامنی رنگ کے پُھول لگتے ہیں اور اگر اس بوٹی کا پتّہ چبایا جائے تو لیس پیدا ہوتا ہے اور اس میں مچھلی جیسی بُو آتی ہے۔

فوائد و استعمال:

۱۔ یہ بوٹی بواسیر خونی کے لیے نہایت مفید ہے۔ کتنا ہی خون جاری ہو، اس بوٹی کے چند بار کے استعمال سے بند ہو جاتا ہے۔ بکن بوٹی بارہ گرام، مرچ سیاہ پانچ دانوں کے ساتھ پانی میں پیس چھان کر مصری سے میٹھا کر کے پییں۔

۲۔ سوزاک کے لیے بارہ گرام بوٹی صبح و شام پانی میں چھان کر مصری سے میٹھا کر کے پینے سے پیشاب کی جلن دُور ہو جاتی ہے اور مواد کا آنا بھی رُک جاتا ہے

Comments

Popular Posts