دھتورہ کیا ہے اور اس کے فوائد
دھتورہ (جوزماثل):
دھتورے کا پودا بینگن کے پودے سے مِلتا جُلتا، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ سفید اور کالا دو قِسم کا ہوتا ہے، پھول کیف جیسا ہوتا ہے۔ کالے دھتورے کا پھول ہلکا نیلا ہوتا ہے اور اس کی شاخیں بھی ہلکی نیلی ہوتی ہیں اور یہ زیادہ اچھّا سمجھا جاتا ہے۔ دھتورہ سفید ہو یا کالا دونوں کو چھوٹی گیند کے برابر پھل لگتے ہیں، جن کے اُوپر کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ سوکھ جانے پر سفید دھتورے کے پھل سے بھورے رنگ کے اور کالے دھتورے کے پھل سے کالے رنگ کے بیج نِکلتے ہیں۔
فوائد و استعمال:
تخم دھتورہ پُرانے نزلہ و زکام کے لیے مفید ہیں۔ مختلف طریقوں سے استعمال کرائے جاتے ہیں۔
۱۔ تخم دھتورہ ساٹھ گرام کو آدھا لیٹر پانی میں جوش دیں، جب تہائی پانی رہ جائے چھان لیں۔ اب موٹی منقیٰ ساٹھ گرام لے کر اس پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر جوش دیں، یہاں تک کہ تمام پانی اُڑ جائے۔ اس کے بعد منقاؤں کو دُھوپ میں خشک کر کے رکھ چھوڑیں اور آدھی منقیٰ روز کھائیں اور برابر کھاتے رہیں۔ پُرانے نزلہ زکام سے نجات مِل جائے گی۔
۲۔ سرطان کا زخم ہو یا کوئی دوسرا درد ناک زخم ہو، دھتورے کے پتّے گھی میں جلائیں۔ اس کے بعد گھی کو صاف کر کے لگائیں۔
۳۔ دودھ کی زیادتی سے پستانوں میں ورم اور تناؤ ہو تو دھتورے کے پتّوں کی بھجیا پکا کر باندھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
۴۔ جوڑ سوجے ہوئے ہوں تو دھتورے کے پتّوں کو تیل سے چپڑ کر گرم کر کے جوڑوں پر رکھیں اور اوپر ارنڈ کے پتّے باندھیں۔
۵۔ دھتورے کے پتّوں کو کوٹ کر پانی نِکالیں۔ اس پانی کے بالوں میں لگانے سے سر کی جوئیں مر جاتی ہیں۔
دھتورہ زھر ہے، اس کو اندرونی طور پر احتیاط سے استعمال کریں۔ اس کے زہر کا اُتار کپاس کا پودا ہے۔
دھتورے کا پودا بینگن کے پودے سے مِلتا جُلتا، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ سفید اور کالا دو قِسم کا ہوتا ہے، پھول کیف جیسا ہوتا ہے۔ کالے دھتورے کا پھول ہلکا نیلا ہوتا ہے اور اس کی شاخیں بھی ہلکی نیلی ہوتی ہیں اور یہ زیادہ اچھّا سمجھا جاتا ہے۔ دھتورہ سفید ہو یا کالا دونوں کو چھوٹی گیند کے برابر پھل لگتے ہیں، جن کے اُوپر کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ سوکھ جانے پر سفید دھتورے کے پھل سے بھورے رنگ کے اور کالے دھتورے کے پھل سے کالے رنگ کے بیج نِکلتے ہیں۔
فوائد و استعمال:
تخم دھتورہ پُرانے نزلہ و زکام کے لیے مفید ہیں۔ مختلف طریقوں سے استعمال کرائے جاتے ہیں۔
۱۔ تخم دھتورہ ساٹھ گرام کو آدھا لیٹر پانی میں جوش دیں، جب تہائی پانی رہ جائے چھان لیں۔ اب موٹی منقیٰ ساٹھ گرام لے کر اس پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر جوش دیں، یہاں تک کہ تمام پانی اُڑ جائے۔ اس کے بعد منقاؤں کو دُھوپ میں خشک کر کے رکھ چھوڑیں اور آدھی منقیٰ روز کھائیں اور برابر کھاتے رہیں۔ پُرانے نزلہ زکام سے نجات مِل جائے گی۔
۲۔ سرطان کا زخم ہو یا کوئی دوسرا درد ناک زخم ہو، دھتورے کے پتّے گھی میں جلائیں۔ اس کے بعد گھی کو صاف کر کے لگائیں۔
۳۔ دودھ کی زیادتی سے پستانوں میں ورم اور تناؤ ہو تو دھتورے کے پتّوں کی بھجیا پکا کر باندھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
۴۔ جوڑ سوجے ہوئے ہوں تو دھتورے کے پتّوں کو تیل سے چپڑ کر گرم کر کے جوڑوں پر رکھیں اور اوپر ارنڈ کے پتّے باندھیں۔
۵۔ دھتورے کے پتّوں کو کوٹ کر پانی نِکالیں۔ اس پانی کے بالوں میں لگانے سے سر کی جوئیں مر جاتی ہیں۔
دھتورہ زھر ہے، اس کو اندرونی طور پر احتیاط سے استعمال کریں۔ اس کے زہر کا اُتار کپاس کا پودا ہے۔



Comments
Post a Comment