دودھی بوٹی

دوُدھی بُوٹی:
دوُدھی بُوٹی کو شیر گیا اور شیرک بھی کہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں یہ ہزار دانی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایک چھتّے دار بُوٹی ہے، اس کی شاخیں سُرخ رنگ کی ہوتی ہیں اور پتّے سُرخ سبزی مائل، اس بُوٹی کے پتّے یا شاخ توڑنے سے سیفد دودھ نِکلتا ہے۔
فوائد و استعمال:
۱۔ یہ بُوٹی مرض جریان، سُرعت اور رِقّت کے لیے نہایت مفید ہے۔ تقریباً سات گرام خشک بُوٹی لے کر سات کالی مِرچوں کے ساتھ پیس چھان کر تھوڑی کھانڈ یا مصری مِلا کر چھ چھ گرام یہ سفوف صبح و شام پانی یا دودھ کے ساتھ کھائیں۔
۲۔ عورتوں کے مرض سیلان الرحم میں بھی اس کا سفوف بنا کر دودھ کے ساتھ کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
۳۔ خون بواسیر اس بُوٹی کو گھوٹ چھان کر پِلانے سے رُک جاتا ہے۔
۴۔ دست آرہے ہوں، پیچش ستا رہی ہو تو دوُدھی بُوٹی تازہ پچیس گرام (خشک ہو تو بارہ گرام) پانی میں گھوٹ چھان کر صبح و شام پلائیں۔ ایک روز ورنہ دو روز پلانے سے دست ہوں یا پیچش بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر پیچش سُدی ہوں تو پہلے کوئی دست آور دوا دے کر آنتوں کو صاف کر لیا جائے۔

Comments

Popular Posts