گٹھیا کا علاج
گٹھیا:
گٹھیا مشہور بیماری ہے- اس میں جوڑوں مثلاً گُھٹنے کا جوڑ، اُنگلیوں کے جوڑ میں سُوجن پیدا ہو جاتی ہے اور چلنے پھرنے یا ہلانے جُلانے سے ان میں درد ہونے لگتا ہے۔
یہ بیماری زیادہ تر کھانے پینے کی بے احتیاطیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ جب گوشت یا قابض بادی غذائیں زیادہ کھائی جائیں تو ان سے ہضم خراب ہو کر بعض کیمیاوی ردّوبدل سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ سردی لگنا، پانی میں بھیگنا، گیلے سِلے کپڑے پہنے رہنا، گیلی سِلی جگہ پر بیٹھنا اور سونا جن سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک جوڑ سے زیادہ کام لینے سے بھی یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے، آتشک، سوزاک، وبائی نزلہ اور پائیوریا جیسی بیماریوں کا زہر خون ہیں پہنچ کر اس مرض کو پیدا کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ مرض خاندانی بھی ہوتا ہے۔ یعنی اگر باپ اس میں مبتلا ہے تو بیٹے کو بھی ہو سکتا ہے۔ غریب محنتی لوگ جن کو خراب ناقص غذائیں کھانے کو ملتی ہیں اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ مرض اگرچہ ہر عمر میں ہو سکتا ہے، یہاں تک کے بچوں کو بھی ہو جاتا ہے، لیکن زیادہ تر ادھیڑ عمر کےبعد پیدا ہوتا ہے۔
ٰاحتیاط:
گٹھیا کے مریض کو سردی سے ضرور بچائیں، گیلی سِلی زمین اور اوس میں نہ سُلائیں۔ ہر قسم کی قابض و بادی غذاؤں اور تُرش چیزوں کے کھانے سے پرہیز کرائیں۔ گوشت نہ کھلائیں اگر یہ نہیں ہو سکتا تواس میں کمی ضرور کریں۔ ہضم کو اچھا کریں اور قبض نہ ہونے دیں۔
علاج:
۱۔ ہالون، کلونجی، میتھی اور اجوائن برابر وزن لیکر سفوف کریں۔ روزآنہ صبح کو تین گرام پانی کے ساتھ دیں۔ گٹھیا اور کمر درد کے لیئے مفید ہے۔
۲۔ اسگندھ ناگوری ۵۰ گرام، سونٹھ ۲۵ گرام، چینی دونوں کے برابر باریک کر کے رکھیں۔ چار چار گرام صبح شام کھلائیں۔
۳۔ آکھ کے پتّے گرم کرکے باندھیں گٹھیا کا درد دور ہو گا۔
گٹھیا مشہور بیماری ہے- اس میں جوڑوں مثلاً گُھٹنے کا جوڑ، اُنگلیوں کے جوڑ میں سُوجن پیدا ہو جاتی ہے اور چلنے پھرنے یا ہلانے جُلانے سے ان میں درد ہونے لگتا ہے۔
یہ بیماری زیادہ تر کھانے پینے کی بے احتیاطیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ جب گوشت یا قابض بادی غذائیں زیادہ کھائی جائیں تو ان سے ہضم خراب ہو کر بعض کیمیاوی ردّوبدل سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ سردی لگنا، پانی میں بھیگنا، گیلے سِلے کپڑے پہنے رہنا، گیلی سِلی جگہ پر بیٹھنا اور سونا جن سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک جوڑ سے زیادہ کام لینے سے بھی یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے، آتشک، سوزاک، وبائی نزلہ اور پائیوریا جیسی بیماریوں کا زہر خون ہیں پہنچ کر اس مرض کو پیدا کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ مرض خاندانی بھی ہوتا ہے۔ یعنی اگر باپ اس میں مبتلا ہے تو بیٹے کو بھی ہو سکتا ہے۔ غریب محنتی لوگ جن کو خراب ناقص غذائیں کھانے کو ملتی ہیں اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ مرض اگرچہ ہر عمر میں ہو سکتا ہے، یہاں تک کے بچوں کو بھی ہو جاتا ہے، لیکن زیادہ تر ادھیڑ عمر کےبعد پیدا ہوتا ہے۔
ٰاحتیاط:
گٹھیا کے مریض کو سردی سے ضرور بچائیں، گیلی سِلی زمین اور اوس میں نہ سُلائیں۔ ہر قسم کی قابض و بادی غذاؤں اور تُرش چیزوں کے کھانے سے پرہیز کرائیں۔ گوشت نہ کھلائیں اگر یہ نہیں ہو سکتا تواس میں کمی ضرور کریں۔ ہضم کو اچھا کریں اور قبض نہ ہونے دیں۔
علاج:
۱۔ ہالون، کلونجی، میتھی اور اجوائن برابر وزن لیکر سفوف کریں۔ روزآنہ صبح کو تین گرام پانی کے ساتھ دیں۔ گٹھیا اور کمر درد کے لیئے مفید ہے۔
۲۔ اسگندھ ناگوری ۵۰ گرام، سونٹھ ۲۵ گرام، چینی دونوں کے برابر باریک کر کے رکھیں۔ چار چار گرام صبح شام کھلائیں۔
۳۔ آکھ کے پتّے گرم کرکے باندھیں گٹھیا کا درد دور ہو گا۔



Comments
Post a Comment